غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اسیران کے میڈیا آفس نے انکشاف کیا ہے کہ تقریبا دو ہفتے قبل النقب جیل کے اندر قابض فوج کی طرف سے کی جانے والی تشدد کی کارروائی کے دوران غزہ پٹی سے تعلق رکھنے والے متعدد فلسطینی اسیران زخمی ہو گئے تھے۔
دفتر نے بتایا کہ زخمیوں میں غزہ کی پٹی کا ایک اسیر ڈاکٹر بھی شامل ہے، جسے کارروائی کے دوران ربڑ کی تین گولیاں لگیں، جبکہ ایک دوسرے اسیر پر ڈنڈوں سے تشدد کیا گیا اور اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔
اسیران کے میڈیا آفس نے مزید کہا کہ تشدد کرنے والی فورسز نے غزہ کے اسیران پر کتے چھوڑے اور انہیں مار پیٹ کا نشانہ بنانے سے پہلے زمین پر لیٹنے پر مجبور کیا۔
دفتر نے قابض حکومتی اداروں کو غزہ کی پٹی کے اسیران کی سلامتی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور تشدد کے ان اقدامات کو روکنے اور اس کے ذمہ داروں کا محاسبہ کرنے کے لیے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا۔
دوسری طرف اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما محمود مرداوی نے کہا ہے کہ اسیران کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا اعادہ اور ان کی صفوں میں زخمیوں کا وقوع پذیر ہونا اس مصائب کے حجم کو بے نقاب کرتا ہے جس کا سامنا قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر قیدیوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔
مرداوی نے اس بات پر زور دیا کہ جیلوں سے آنے والی تشدداور رسوائی سے متعلق گواہیاں اسیران کے معاملے کی حمایت کے لیے ایک مضبوط موقف کا تقاضا کرتی ہیں، انہوں نے قابض حکام کو ان کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
النقب جیل کے نئے بیانات اسیران کے اداروں کی طرف سے جیلوں کے اندر دھاووں اور حملوں کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹس کے سلسلے میں ایک اور واقعہ کا اضافہ کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی حراست کے حالات کی تحقیقات کرنے کے لیے فلسطینی مطالبات مسلسل جاری ہیں۔
