مقبوضہ مغربی کنارہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں نے جمعہ کی صبح مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں حملوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے چھاپے مارے اور تقریباً 20 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں الخلیل میں مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر معتز حافظ ابو سنینہ بھی شامل ہیں۔
ان حملوں میں رام اللہ اور سلفیت کے علاقوں میں فلسطینی کسانوں اور زرعی اراضی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ قابض فوج نے زیتون کی فصل کاٹنے والے کسانوں پر آنسو گیس کے گولے پھینکے، جبکہ آبادکاروں نے فصل کی کٹائی کے موسم میں زیتون کے درختوں کو آگ لگا دی۔
مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر گرفتار
الخلیل میں قابض اسرائیلی فوج نے متعدد محلوں پر دھاوا بولنے، گھروں کی تلاشی لینے اور شہریوں کے سامان کو نقصان پہنچانے کے بعد نو فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ہونے والوں میں مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر معتز حافظ ابو سنینہ اور مسجد کے عملے کے سربراہ ہمام ابو مرخیہ شامل ہیں۔ دونوں کو مسجد کے احاطے میں اپنے کام کی جگہ سے حراست میں لیا گیا۔
الخلیل کے جنوب میں واقع قصبے یطا میں بھی قابض فوج نے متعدد فلسطینی گھروں پر چھاپے مارے اور ان کی تلاشی لی، تاہم وہاں کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔
سابق فلسطینی قیدیوں کے خلاف گرفتاری مہم
قلقیلیہ گورنری میں قابض فوج نے شہر کے مشرق میں واقع گاؤں کفر قدوم پر چھاپہ مار کر محمود اور محمد امجد شتوی، سمیر شتوی اور مراد شتوی نامی چار بھائیوں اور دیگر شہریوں کو گرفتار کیا۔
قلقیلیہ شہر میں ایک الگ کارروائی کے دوران قابض فوج نے پانچ سابق فلسطینی قیدیوں کو حراست میں لے لیا۔
نابلس گورنری میں اسرائیلی فوج نے شہر کے جنوب میں واقع قصبے بیتا پر دھاوا بولا، متعدد گھروں کی تلاشی لی اور ان کے سامان کو نقصان پہنچانے کے بعد دو سابق فلسطینی قیدیوں کو گرفتار کر لیا۔
طولکرم میں قابض فوج نے شویکہ چوک کے قریب سے ایک نوجوان فلسطینی کو گرفتار کیا۔
رام اللہ کے شمال میں مسلح آبادکاروں کے حملے
رام اللہ اور البیرہ گورنری میں جمعہ کی صبح درجنوں مسلح یہودی آبادکار رام اللہ کے شمال میں گاؤں سردا اور محلے الریحان کے درمیان واقع علاقے میں داخل ہوگئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے سڑکوں پر اشتعال انگیز گشت کیا، فلسطینی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، فضا میں زندہ گولیاں چلائیں اور علاقے میں قائم ایک یادگار کو نقصان پہنچایا۔
یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک پر یہودی آبادکاروں کے مسلسل حملوں کے دوران پیش آیا۔
دوسری جانب رام اللہ کے شمال میں واقع قصبے عبوین میں قابض اسرائیلی فوج نے زیتون کی فصل کاٹنے والے فلسطینی کسانوں پر آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ فوج نے انہیں قصبے کے مشرق میں وادی اللبان اور غرابہ کے علاقوں میں اپنی زرعی اراضی تک پہنچنے سے بھی روک دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق کسانوں کے خلاف یہ حملے مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہے، جس کے باعث انہیں زیتون کے باغات تک رسائی اور فصل کی کٹائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان پابندیوں نے سالانہ زیتون کی فصل کے موسم میں فلسطینی کاشت کار خاندانوں پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے، کیونکہ زیتون کی کاشت بہت سے خاندانوں کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
سلفیت میں آبادکاروں نے زیتون کے درخت جلا دیے
سلفیت گورنری میں قابض اسرائیلی فوج نے جمعہ کی صبح سلفیت شہر پر چھاپہ مارا، متعدد فلسطینی گھروں میں داخل ہو کر ان کی تلاشی لی اور مختلف محلوں میں فوجی تعینات کر دیے۔
ایک الگ کارروائی میں یہودی آبادکاروں نے سلفیت شہر اور قصبے اللبن الشرقیہ کے درمیان وادی الشعیر کے علاقے میں زیتون کے درختوں کو آگ لگا دی۔
اس علاقے میں اس سے قبل بھی آبادکاروں کے حملے رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں اپنی زمینوں پر کام کرنے والے کسانوں پر تشدد، زیتون کی فصل کی چوری اور فلسطینی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات شامل ہیں۔
یہ واقعات زیتون کی فصل کے موسم میں فلسطینی زرعی اراضی اور معاشی ذرائع پر بڑھتے ہوئے حملوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
جنین کے قریب اسرائیلی چھاپے کے دوران فلسطینی بچہ زخمی
ایک الگ واقعے میں جمعرات کی شام شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں جنین کے مغرب میں واقع قصبے الیامون پر فوجی چھاپے کے دوران اسرائیلی فائرنگ سے 13 سالہ فلسطینی بچہ زخمی ہوگیا۔
فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے بتایا کہ اس کے طبی عملے نے بچے کو پاؤں میں زندہ گولی لگنے کے بعد طبی امداد فراہم کی۔
قابض اسرائیلی فوج نے قصبے پر دھاوا بولتے ہوئے فلسطینی شہریوں اور ان کے گھروں کی جانب زندہ گولیاں، آنسو گیس کے گولے اور صوتی بم پھینکے۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں میں شدت
اکتوبر 2023 میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مقبوضہ بیت المقدس، میں اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کے حملوں میں شدت آئی ہے۔
رپورٹ میں نقل کیے گئے فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں اب تک 1,210 فلسطینی شہید، تقریباً 13,350 زخمی اور 26,000 فلسطینی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔