نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مقبوضہ بیت المقدس میں تمام اسرائیلی بستیاں اور ان سے متعلقہ بنیادی ڈھانچہ کسی بھی قانونی جواز سے عاری ہے اور یہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سیکرٹری جنرل کے سرکاری ترجمان اسٹیفن ڈوجاریک نے روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران وضاحت کی کہ گوتریس نے اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں موجود ’گیوات زئیف‘ بستی کو ’شہر‘ کا درجہ دینے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ڈوجاریک نے زور دے کر کہا کہ یہ انتظامی درجہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت اس بستی کی قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کرتی، کیونکہ یہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکرٹری جنرل کا ماننا ہے کہ اسرائیلی بستیاں دو ریاستی حل کے حصول اور ایک منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے قیام کی راہ میں اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
گوتریس نے ایک بار پھر ’اسرائیل‘ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تمام توسیعی سرگرمیوں اور ان سے متعلقہ اقدامات کو روکے۔
دوجارک نے نشاندہی کی کہ سیکرٹری جنرل کا یہ موقف 19 جولائی سنہ 2024ء کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (عالمی عدالتِ انصاف) کی جانب سے جاری کردہ اس مشاورتی رائے پر بھی مبنی ہے جو مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں اسرائیلی موجودگی سے متعلق ہے۔
