Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

رام اللہ

اسیران کی معلومات چھپانا انہیں بنیادی حقوق سے محروم کرنا ہے، اسیران یکجہتی کمیٹی

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک حقوقی رپورٹ نے فلسطینی اسیران اور ان کے اہل خانہ سے بنیادی معلومات چھپانے کے اثرات سے خبردار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ حراستی مراکز کی نشاندہی نہ کرنا، گرفتاری کی قانونی بنیاد، صحت کی حالت، موت کے حالات اور لاش کی جگہ کو مخفی رکھنا قیدیوں اور ان کے لواحقین کو بنیادی حقوق سے محروم کرتا ہے، علاج، عدلیہ میں چیلنج کرنے، شواہد کو محفوظ بنانے اور احتساب کے طریقہ کار میں رکاوٹ بنتا ہے۔

’یکجہتی‘ ادارے کی طرف سے معلومات تک رسائی کے عالمی دن اٹھائیس ستمبر کو پر جاری کردہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ زیرِ حراست افراد سے متعلق معلومات تک رسائی محض ایک انتظامی عمل ہونے سے بالاتر ہے، بلکہ یہ انہیں صوابدیدی گرفتاری، تشدد، بدسلوکی اور دورانِ حراست اموات سے بچانے کی ایک بنیادی ضمانت ہے۔

معلومات میں تاخیر قانونی تحفظ میں رکاوٹ

رپورٹ میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ وہ معلومات جنہیں چھپایا جا سکتا ہے یا جن میں تاخیر کی جا سکتی ہے، ان میں زیرِ حراست شخص کی موجودگی کی جگہ اور اسے حراست میں لینے والا ادارہ، اس کی حراست کی قانونی بنیاد اور عدلیہ سے متعلق پوزیشن کے ساتھ ساتھ اس کی صحت کی حالت کی تفصیلات اور حراستی مراکز یا طبی اداروں کے درمیان اس کی نقل و حرکت شامل ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اسیر کی جگہ یا اس کی قانونی پوزیشن سے متعلق معلومات کا فقدان اس کے اہل خانہ اور وکیل کی اس صلاحیت کو محدود کرتا ہے کہ وہ اس کے کیس کی پیروی کر سکیں اور اس کی حراست کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر سکیں، جبکہ طبی معلومات کو چھپانا مطلوبہ نگہداشت کی فراہمی میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے یا اس کی جان بچانے کے لیے کی جانے والی مداخلت میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دورانِ حراست اموات کے معاملات میں معلومات کو چھپانے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے، کیونکہ موت کے حالات اور اس کی تحقیقات کے نتائج کا علم ہونا، زخموں یا طبی وجوہات کی دستاویزات تیار کرنا اور لاش کی جگہ کا تعین کرنا اور اسے اس کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات حقیقت کو آشکار کرنے کے لیے بنیادی عناصر بن جاتے ہیں۔

رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ ان معلومات میں تاخیر یا ان تک رسائی کو روکنا شواہد کے ضائع ہونے اور تحقیقات کے تعطل کا سبب بن سکتا ہے، اس کے علاوہ یہ اہل خانہ کو اپنے پیاروں کے انجام سے ناواقف رکھنے اور انہیں ضروری قانونی اقدامات کرنے کے قابل بنانے سے محروم کرنے کا باعث بنتا ہے۔

اہل خانہ کا اپنے پیاروں کا انجام جاننے کا حق

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ زیرِ حراست شخص کی موت کا اعلان کرنے سے اس کے اہل خانہ کا موت کے پسِ پردہ محرکات جاننے کا حق ختم نہیں ہوتا۔ انہوں نےاس بات پر زور دیا گیا کہ موت کی جگہ اور اس کی وجہ، طبی نگہداشت فراہم کرنے والے ادارے، ٹیسٹ اور تحقیقات کے نتائج، لاش کی جگہ اور اس کی حوالگی سے متعلق خصوصی اقدامات کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔

رپورٹ میں یہ بھی سمجھا گیا ہے کہ مناسب وقت پر معلومات کی فراہمی زیرِ حراست افراد کے لیے قانونی اور انسانی تحفظ کی ضمانتوں کا ایک حصہ ہے اور یہ جبری گمشدگیوں یا اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہونے کے معاملات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، نیز عدلیہ اور حقوقِ انسانی کے اداروں کو ممکنہ خلافورزیوں کی پیروی کرنے اور ان کی تحقیقات کرنے کے قابل بناتی ہے۔

ادارے نے اپنی اس رپورٹ میں زیرِ حراست افراد کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور معیارات کے ایک مجموعے سے مدد لی ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسیران کا تحفظ صرف ان کے حراستی حالات تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں ان کا اور ان کے اہل خانہ کا ان کے انجام سے جڑی بنیادی معلومات جاننے کا حق بھی شامل ہے۔

اسی تناظر میں رپورٹ میں اس بات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ زیرِ حراست افراد، ان کے موجودگی کے مقامات اور ان کی قانونی پوزیشنز کو رجسٹر کیا جائے، ضروری طبی معلومات فراہم کی جائیں اور موت واقع ہونے کی صورت میں فوری طور پر اہل خانہ کو مطلع کیا جائے، جبکہ اس سے متعلقہ شواہد اور ریکارڈز کو بھی محفوظ رکھا جائے۔

یہ مطالبات اس بات کی توثیق کے دائرے میں سامنے آئے ہیں کہ زیرِ حراست شخص کے انجام کو جاننے کا حق انسانی وقار کے تحفظ اور انصاف تک رسائی کے نظام کا ایک حصہ ہے، بالخصوص حراست کے دوران گمشدگی یا موت سے جڑے معاملات میں، تاکہ اسیران اور ان کے لواحقین کے لیے تحفظ، انصاف اور احتساب کے ذرائع کو یقینی بنایا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan