Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیل کی ترکیہ کو دھمکی

تحریر: محمد احمدی

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) صہیونی وزیر گیدئون سعر نے ہفتے کے روز ترک حکومت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ شام میں انقرہ کی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کریں گے۔ سعر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ “ہم شام میں ترکیہ کے فوجی اڈوں کے قیام یا جنوبی شام میں ترک افواج کی موجودگی کو قبول نہیں کریں گے۔” اس اسرائیلی وزیر نے مزید دعویٰ کیا کہ: “ہم اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے کوشش کر رہے ہیں اور اردوغان کے بیانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن ہم کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔” تاہم، ان دھمکیوں کے باوجود انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ممکن ہوا تو اسرائیل ترکیہ کے ساتھ سفارتی حل کو ترجیح دے گا۔

شام میں ترک فضائی دفاعی نظام پر اسرائیلی تشویش
منگل کے روز اسرائیل نے شام میں ایک فضائی اڈے پر حملہ کیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ حملہ اس اطلاع کے بعد کیا گیا کہ ترکیہ اس علاقے میں فضائی دفاعی نظام نصب کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ ترکیہ کے زیرِ کنٹرول ایسے دفاعی نظام کی تنصیب سے شام کی فضائی حدود میں اسرائیلی فضائیہ کی آزادیِ عمل شدید متاثر ہوسکتی ہے اور ایران کی جانب جانے والے اسرائیلی پروازی راستوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ گزشتہ سال بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ترکیہ نے ٹی-۴ فضائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرنے اور وہاں اپنے فضائی دفاعی نظام اور ریڈار نصب کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت بھی اسرائیلی حکام نے اس اقدام کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

شام میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی، بالخصوص اہم اور اسٹریٹجک فضائی اڈوں پر، حالیہ برسوں میں اسرائیل کی اہم ترین سکیورٹی تشویشوں میں شامل رہی ہے۔ تل ابیب کو خدشہ ہے کہ شام میں انقرہ کے اثر و رسوخ میں اضافے کے نتیجے میں اسرائیل ایران سے متعلق اہداف کے خلاف شام میں فضائی حملے کرنے کی آزادی کھو سکتا ہے۔ یہ تشویش ایسے وقت میں مزید بڑھ گئی ہے، جب ترکیہ نے حالیہ مہینوں میں شام کی نئی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دی ہے اور شام کے سکیورٹی معاملات میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے۔

اسرائیلی صحافی، ایران کے بعد ترکیہ کو اسٹریٹجک خطرہ سمجھنا چاہیئے
اسرائیلی چینل i24 کے صہیونی صحافی زوی یحزکلی نے بھی کہا ہے کہ “ایران کے خطرے میں کمی کے بعد اسرائیل کو ترکیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک خطرے کے طور پر نمٹنا شروع کرنا چاہیئے۔” ان کے خیال میں “اردوغان نے اسرائیل مخالف رویہ اختیار کر لیا ہے اور شام میں ترکیہ کے اثر و رسوخ کو مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ مستقبل میں فوجی تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔” اس اسرائیلی صحافی نے شام میں اسرائیل کے حالیہ حملے کو ترکیہ کے لیے انتباہی پیغام اور کھیل کے قواعد طے کرنے کی کوشش قرار دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل شام کے اندر اپنے مفادات کے تحفظ اور ترکیہ کے ساتھ براہِ راست سرحدی صورتِ حال پیدا ہونے سے روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ یحزکلی نے ٹرمپ حکومت کے رویئے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ٹام بارک کی اردوغان کی حمایت اور حالیہ عرصے میں اردوغان کی ٹرمپ سے بڑھتی ہوئی قربت اسرائیل کے لیے ایک مسئلہ پیدا کر رہی ہے۔ آخر میں یحزکلی نے کہا کہ ترکیہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اسرائیل کو اپنی سوچ اور حکمتِ عملی میں بتدریج تبدیلی لانا ہوگی اور اس عمل میں وقت لگے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan