Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Uncategorized

“اسرائیل سلوان اور مسجد اقصیٰ کے مضافات کو یہودیت میں تبدیل کر رہا ہے”

palestine_foundation_pakistan_palestinian-figures-silwan

فلسطین میں مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے تحفظ کے لیے قائم مقامی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ قابض صہیونی ریاست بیت المقدس کے مرکزی مقام”سلوان” اور مسجد اقصیٰ کے مضافات کو جلد ازجلد یہودیت میں تبدیل کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ”سلوان” مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے ایک آہنی باڑ کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی یہ عظمت برقرار رہے گی اور فلسطینیوں سے اس شہر کو سلب کرنے کےصہیونی کے منصوبوں کو کسی قیمت پرکامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

بدھ کے روز بیت المقدس میں “بستان۔۔ سلوان کمیٹی” ، القدس ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن” اور”اقصیٰ فاؤنڈیشن فارٹرسٹ” کے اشتراک سے سلوان میں مقدس شہر کے تحفظ کے لیے ایک “یکجہتی کیمپ لگایا گیا۔

یکجہتی کیمپ کے انعقاد کے بعد القدس کے تحفظ کے لیے قائم تنظیموں کے سرکردہ اراکین نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے تمام تر مظالم اور دباؤ کے باوجود” بستان” اور “سلوان” کے شہری علاقہ نہ چھوڑنے کے عزم پر سختی سے قائم ہیں، انہوں نے کہا کہ مقامی شہریوں کا اپنی سرزمین پر قائم رہنا ان کا بنیادی حق ہے اور وہ انشاء اللہ بیت المقدس اور قبلہ اول کو نہیں چھوڑیں گے۔

اس موقع پر”سلوان باقی رہے گا” کے نام سے تیار کردہ دستاویزی فلم بھی دکھائی گی، جس میں “سلوان”کی تاریخی حیثیت، اس کی آبادی اور فلسطینی اور مسلمانوں کا اس پر حق ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ یہودیوں کی جانب سے درپیش سازشوں کو بے نقاب کیا گیا۔

دستاویزی فلم کے مطابق “سلوان” شہر کی تاریخ 6000 سال پرانی جبکہ اس کی آبادی 50 ہزار افراد پر مشتمل ہے جن میں اکثریت مسلمانوں اور عرب شہریوں کی ہے۔

فلم میں مقبوضہ فلسطین میں قائم تحریک اسلامی کے راہنما شیخ رائد صلاح کہتے ہیں کہ “اسرائیل بیک وقت “سلوان” کو تین طریقوں سے نشانہ بنا رہا ہے۔ قابض صہیونی ایک ہی وقت میں شہر کی اسلامی شناخت ختم کرنے کے لیے اس کے اسلامی تہذیبی ورثے کو ختم کر رہے ہیں، فلسطینیوں سے ان کی زمینیں غصب کی جا رہی ہیں، اس کے علاوہ کھدائیوں کے ذریعے شہرکو ایک نئی شکل دی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہودی آباد کاروں اور سیاحوں کو سیاحت کے بہانے انتہا پسند یہودیوں کو مسجد اقصیٰ تک پہنچانے اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

مسجد اقصیٰ کے سابق امام وخطیب شیخ کمال الخطیب کا کہنا ہے کہ”سلوان” اور”بستان” کے مقامات مسجد اقصیٰ کے لیے حفاظتی دیوار کی حیثیت رکھتے ہیں” انہوں نے کہا کہ اسرائیل کچھ بھی کر لے ان علاقوں کو فلسطینیوں سے سلب نہیں کرسکتا۔ شیخ کمال خطیب کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل کا اولین ہدف یہ ہے کہ سلوان اور بستان کے علاقوں میں موجود فلسطینی آبادی مکمل طور پر ختم کر کے ان کی جگہ یہودیوں کو آباد کیا جائے، تاہم حکومت کے تمام تر دباؤ اور مظالم کے باوجود صہیونی اپنے اس مذموم مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

اس موقع پر پریس کانفرنس سے”القدس ڈویلمنٹ فاؤنڈیشن” کے ڈائریکٹر احمد محمود جبارین اور القدس کے تحفظ کےلیے قائم قومی کمیٹیز کے کو آرڈینیٹر مومن العباسی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے سلوان اور بستان میں فلسطینی شہریوں کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈالتے عالمی برادری اور عرب اور اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ بیت المقدس کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں بطور احسن پوری کریں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan