رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین اسٹڈیز سینٹر برائے اسیران نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل کی حکام سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر جاری نسل کشی کے ساتھ ساتھ جیلوں کے اندر بھی غزہ کے اسیران کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ مرکز نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل جاری مظالم ’سست موت‘ کے مترادف ہیں یا حال ہی میں منظور کیے گئے قانون کے تحت سزائے موت پر عمل درآمد کا حصہ ہیں۔
مرکز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ غزہ کی پٹی کے اسیران ”پہلے لمحے سے ان پر ڈھائے جانے والے ہولناک تشدد، جس کی وجہ سے 52 اسیران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد کے خطرے کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ انسانی حقوق کے علمبرداروں کا دعویٰ کرنے والی عالمی دنیا کی خاموشی کے سائے میں ہو رہا ہے“۔
مرکز کے ڈائریکٹر ریاض الاشقر نے کہا کہ قابض اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی ’شاباک‘ کے تفتیش کار غزہ سے گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ ہر قسم کا تشدد اور منظم ذلت و رسوائی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ تفتیش ختم ہونے کے بعد بھی وہ اسیران کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھتے ہیں تاکہ انہیں ’موت کے دہانے‘ تک پہنچایا جا سکے۔
الاشقر نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیل اب بھی وکلاء اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں کو غزہ کے اسیران سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہا، خاص طور پر رملہ جیل کے اندر موجود ’رکیفت‘ نامی سیکشن میں قید افراد سے جسے اسیران ’ذبحہ خانہ‘ کہتے ہیں۔ یہ ایک زیر زمین سیکشن ہے جہاں اسیران کو قبر جیسی صورتحال میں رکھا جاتا ہے تاکہ ان پر تنہائی میں ہر قسم کے مظالم ڈھائے جا سکیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ سیکڑوں اسیران تفتیش کے دوران سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کرتے ہیں، جن میں جسم کے حساس حصوں پر بجلی کے جھٹکے دینا، ان پر کتے چھوڑنا، انہیں گھنٹوں تپتی دھوپ میں ہاتھ باندھ کر سر نیچے کر کے بٹھائے رکھنا، شدید مار پیٹ کرنا، پینے کے پانی سے محروم رکھنا اور یہاں تک کہ ان میں سے کئی کو زیادتی کا نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہینوں جاری رہنے والی تفتیش مکمل ہونے کے بعد بھی اسیران کو ایسی کوٹھریوں میں منتقل کیا جاتا ہے جہاں انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جاتا ہے، جس میں طویل عرصے تک نہانا، نماز پڑھنا، قرآن پڑھنا اور کپڑے ملنا تک شامل نہیں ہے۔ بھوک سے مارنے کی پالیسی کے نتیجے میں ان میں سے بڑی تعداد کا وزن آدھا رہ گیا ہے، اس کے علاوہ ان پر جسمانی اور لفظی حملے بدستور جاری ہیں۔
الاشقر نے زور دیا کہ قابض اسرائیل غزہ کے اسیران کے حوالے سے جبری گمشدگی کا جرم بھی کر رہا ہے، چاہے وہ زندہ ہوں یا جنہیں شہید کیا جا چکا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیل نے غزہ سے 15 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں بچے، خواتین، زخمی اور معذور افراد شامل ہیں، جن میں سے ہزاروں کو مختلف مدت تک قید رکھنے کے بعد رہا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل ابھی بھی غزہ کے تقریباً 1800 قیدیوں کو حراست میں رکھے ہوئے ہے جنہیں وہ ’غیر قانونی جنگجو‘ قرار دیتا ہے، حالانکہ ان میں سے اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ ان میں تقریباً 350 اسیران ایسے ہیں جنہیں قابض فوج ’ایلیٹ فورس کے اسیران‘ قرار دیتی ہے، جبکہ 360 طبی عملے کے ارکان بھی قید ہیں۔
