غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے دوران اتوار کے روز وسطی غزہ پر قابض اسرائیل کے ایک اور بزدلانہ حملے کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور دیگر کئی زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ شمالی غزہ کے علاقے سے نقل مکانی کر کے آنے والے شہری اسماعیل أبو الفول اس اسرائیلی درندگی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کر گئے جبکہ ان کے علاوہ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ یہ سفاکانہ کارروائی قابض فوج کے ڈرون طیارے کی طرف سے وسطی غزہ میں شارع صلاح الدین پر المغازی کے دروازے کے سامنے سولر انڈسٹریل اسٹیشن کے قریب شہریوں کے ایک گروپ پر فضائی حملے کی صورت میں کی گئی۔
ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ وسطی غزہ کے قصبے الزوايدہ میں ایک ہدف پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں دو بچوں اور ایک نوجوان سمیت چھ زخمی افراد کو شہداء الاقصی ہسپتال پہنچایا گیا جبکہ دونوں بچوں میں سے ایک کی حالت انتہائی خطرے میں بتائی گئی ہے۔
شہری دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وسطی علاقے میں ان کی ٹیمیں شارع صلاح الدین پر المغازی چوک کے گردونواح میں قابضین کے نشانہ بننے والے ایک “برکس” میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ادھر ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ قابض فوج کی گاڑیوں نے جنوبی غزہ میں خان یونس کے جنوبی علاقوں میں فائرنگ کی۔
قابض اسرائیل کی فوج فضائی اور توپ خانے کی گولہ باری کے ذریعے، نام نہاد زرد لائن کے اندر تخریب کاری اور تباہی کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اشیاء، امداد اور سفر کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں برقرار رکھتے ہوئے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دس اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک شہداء کی تعداد بڑھ کر 1,286 شہداء تک پہنچ چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 4,252 ہو چکی ہے اور لاشیں نکالنے کے معاملات کی تعداد 813 تک پہنچ گئی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک مجموعی شہداء کی تعداد 73,420 شہداء تک جا پہنچی ہے جبکہ اس کے علاوہ 174,364 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
