ایمسٹرڈیم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) نیدرلینڈز نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ۲۲ ستمبر سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر رہا ہے۔
نیدرلینڈز کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تجویز کردہ اقدامات اس غیر قانونی صورتحال کے تسلسل میں تعاون نہ کرنے کے اپنے بین الاقوامی قانونی فریضے کے ساتھ نیدرلینڈز کے عزم کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔
وزارت نے واضح کیا کہ اس پابندی میں ان مصنوعات کی درآمد، خریداری اور فروخت شامل ہوگی جن کا ماخذ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیاں ہیں۔
اس فیصلے کے ساتھ نیدرلینڈز آئرلینڈ، بیلجیم اور اسپین سمیت یورپی یونین کے ان متعدد ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے اندر اس بات کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ اور مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملوں کے پس منظر میں بستیوں کے ساتھ تجارت پر یکساں پابندیاں عائد کی جائیں، اگرچہ بعض رکن ممالک کی طرف سے ایسا ہی قدم اٹھانے میں اب بھی ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔
فلسطینیوں کے خلاف قابض اسرائیل کے قانونی معاملات کی نگرانی کرنے والے ادارے “گلوبل ایکو” کی طرف سے جون میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی بستیوں سے آنے والی زرعی برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ نیدرلینڈز کو جاتا تھا، جو یورپی یونین کے ممالک کی طرف جانے والی کل ایسی برآمدات کا تقریباً نصف بنتا ہے۔
