Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Uncategorized

یورپ کو حماس کو نظرانداز کرنے کی غلطی کا احساس ہو چکا ہے: حمدان

palestine_foundation_pakistan_osama-hamdan-senior-hamas-representative-in-lebanon15

اسلامی تحریک مزاحمت. حماس. کے سیاسی شعبے کے رکن اور تنظیم کے خارجہ تعلقات کے عہدیدار اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ یورپ کو حماس کو نظرانداز کرنے کی غلطی کا احساس ہو گیا ہے .جس کے بعد مختلف یورپی ممالک نے حماس سے بات چیت کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں. غزہ سے شائع ہونے والے کثیرالاشاعت عربی اخبار”فلسطین” کو ایک انٹرویو میں اسامہ حمدان نے کہا کہ فرانس نے طویل عرصے تک حماس سے بات چیت کو نظرانداز کیے رکھا لیکن اب اسے اپنی غلطی کا اندازہ ہو گیا ہے. اس حوالےسے فرانسیسی وزیرخارجہ برنارڈ کوچنیر نے حماس کی قیادت سے براہ راست بات چیت کی تیاری پر آمادگی ظاہر کی ہے. جبکہ کئی دیگر یورپ ملکوں کی طرف سے بھی حماس کے ساتھ روابط کیے گئے ہیں. اسامہ حمدان نے کہا کہ یورپ اب سمجھنے لگا ہے کہ فلسطین کی سیاسی قوتوں میں حماس ایک اہم ترین اور عوام کی مقبول سیاسی جماعت ہے اور یہ بعض دیگر جماعتوں کے مقابلے میں تیزی کے ساتھ عوام میں مقبول ہو رہی ہے. ایسے میں حماس کو مشرق وسطیٰ میں کسی بھی حوالے سے ہونے والی پیش رفت میں شامل نہ کرنا زیادتی ہو گی. خیال رہے کہ اسامہ حمدان نے یہ بیان ایک ایسےوقت میں دیا ہے جبکہ فرانسیسی وزیرخارجہ برنارڈ کوچنیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک حماس کے ساتھ بات چیت پر تیار ہے اور یہ کہ حماس کو شامل کیے بغیر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کوئی امن معاہد منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکتا. ایک سوال کےجواب میں اسامہ حمدان نے کہا کہ حماس ایک ذمہ دار تنظیم ہے اور اس کے فلسطین کے اندر اور باہر تمام عرب اور اسلامی ممالک اور عالمی برادری کے کئی اہم ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں. حماس کو نظرانداز کر کے فلسطین میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا. حماس کے راہنما نے کہا کہ بعض یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیلی مطالبے پر حماس کو “دہشت گرد” گروہوں میں شامل کرنے کی پالیسی حیران کن اور قابل افسوس ہے. حماس صرف فلسطینی عوام کے سلب شدہ حقوق کے حصول کی جنگ لڑ رہی ہے. اس کا فلسطین سے باہر کسی دوسرے ملک سے کوئی جھگڑا نہیں. امریکا کے دباٶ میں آ کر یورپی ممالک کا حماس کو چار رکنی کواٹریٹ کے مطابق اسرائیل تسلیم کرانے پر زور دینا غلط پالیسی ہے. اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی سودے بازی ہو گی. یورپ حماس کو اسرائیل کو تسلیم کرانے کے بجائے اسرائیل پر دباٶ ڈالے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق تسلیم کرے. سلامتی کونسل کی طرف سے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کے قیام کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے حمدان نے کہا کہ ” اب دنیا کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ اسرائیل ایک بے لگام ریاست ہے اور تواتر کے ساتھ جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے. اس کے جنگی جرائم کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہیں. ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا اسرائیل کی پشت پر کھڑی ہے صہیونی ریاست کا ایک جنگی جرائم میں ملوث ملک بن کرسامنے آنا نہایت اہمیت کاحامل ہے. انہوں نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ حماس سے دور رہنے کے بجائے اس کے قریب ہوں.ہمارے موقف کو بھی کھلے دل سے سنا جائے تا کہ خطے میں مستقل امن کے قیام کی راہ ہموار کی جا سکے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan