Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

ناجائز قید میں توسیع کے بعد فلسطینی خاتون صحافی کے حوصلے بلند

فلسطینی خاتون صحافی بشریٰ التاویل کی والدہ اپنی بیٹی کی انتظامی حرات میں تین ماہ کی توسیع کی شدید مذمت کی ہے۔ ام عبد اللہ نے پریس کانفرنس میں کہا اسرائیل کی جانب سے اپنی سزا میں تیسری مرتبہ توسیع کی خبر سن کر بھی میری بیٹی کے حوصلے بلند تھے۔ انہوں نے کہا قابض اسرائیل نے قید میں مزید توسیع نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ اپنے وعدوں سے مکر گیا ہے۔

اسرائیلی حکومت قاتل اور مجرم ہے، ہمیں صبر کرنا چاہیے یاد رہے اپنے وطن سے جڑے رہنا آسان راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا بشری التاویل کے قید کے ساتھی بھی اس کے ساتھ پوری یک جہتی کا مظاہرہ کر رہے  اور اس کی پوری حمایت کر رہے ہیں۔

خیال رہے اسرائیلی فوج نے بشریٰ التاویل کو 21 مارچ کو نابلس کے جنوب  میں زعترہ فوجی  پوسٹ سے گرفتار کیا تھا۔ بشریٰ تین تین ماہ کی دو انتظامی حراستیں کاٹ چکی ہیں اور اب تیسری مرتبہ پھر تین ماہ کیلئے ان کی نظر بندی میں توسیع کردی گئی۔

حماس کے اسیر رہنما جمال التاویل کی بیٹی بشریٰ کو اس سے قبل بھی اسرائیل  کئی مرتبہ گرفتار کر چکاا ہے۔ انہوں نے اس سے تقریبا ساڑھے تین برس صہیونی جیل میں گزارے تھے۔

 ان کے والد جمال التاویل کو بھی اسرائیلی فوج نے اس سال سے زائد عرصہ سے گرفتار کر رکھا ہے حالانکہ اپنی حالیہ گرفتاری سے قبل وہ 16 برس اسرائیلی جیلوں کی نذر کر چکے ہیں۔

خیال رہے بشریٰ کو صرف ناجائز گرفتاری کا ہی سامنا نہیں بلکہ اسرائیلی حکام ان  کے ساتھ قید میں ناروا سلوک کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ جیل انتظامیہ نے انہیں طویل عرصہ قید تنہائی میں رکھنے کے بعد اب کینٹین کی سہولت اور رشتہ داروں سے ملاقات کے حق سے بھی محروم کردیا ہے۔

بشریٰ  کو پہلی مرتبہ 2011 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان کی عمر18  برس بھی نہیں ہوئی تھی۔ عدالت نے انہیں 16  ماہ کی قید دی ۔ انہوں نے  ماہ 5  کی جیل کاٹی تھی کہ   انہیں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے ’’ قیدیوں سے  وفا‘‘ کے تحت رہائی مل گئی تھی۔

اسرائیل نے بشریٰ کو 2014 کے وسط میں دوبارہ گرفتار کیا اور معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کی سزا پھر بحال کردی۔ بشریٰ نے اپنی پرانی سزا کے باقی رہنے والے 11 ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے اور مئی 2015  میں رہائی پائی تھی۔

نومبر 2017 میں قابض فوج نے ان کے گھر پر دھاوا بولا اور انہیں تیسری مرتبہ گرفتار کرکے انتظامی حراست میں 8 ماہ قید رکھا ۔

 دسمبر 2019  میں صہیونی فورسز نے ان کے والد جمال کے گھر پر حملہ کیا اور بشریٰ کو چوتھی مرتبہ گرفتار کرلیا۔ اس مرتبہ عوفر کی عدالت نے 4  ماہ کی انتظامی حراست کا حکم جاری کیا اور وہ انہیں جولائی 2020 میں رہائی ملی۔ اسی سال نومبر میں انہیں پانچویں مرتبہ حراست میں لیا گیا اور 5 اکتوبر 2021 کو بشریٰ کو رہا کیا گیا تھا۔  بشری اپنے گھر کی اکلوتی بیٹی ہیں اور 2014 سے قیدیوں کے مسائل کے حل کیلئے سرگرم عمل ہیں۔

واضح رہے اسرائیلی جیلوں میں اس وقت 16 صحافی قید ہیں ۔ ان میں دو خواتین بشریٰ التاویل اور میڈیا علوم کی طالبہ دینا جرادات بھی شامل ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan