Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پاکستان

اقوام متحدہ کی جانب سے یوم فلسطین،دنیا کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے : لیاقت بلوچ

اسلام آباد ( فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس سے ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا 29 نومبر اقوام متحدہ کی جانب سے یوم فلسطین قرار دینا دنیا کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ 29 نومبر کو پاس ہونے والی قرارداد نمبر 181 فلسطینیوں کو ریاست کے حق سے محروم کرنے اور اسرائیل کی ناجائز ریاست کی توثیق کے لیے تھی ۔

ان خیالات کا اظہار ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ 1977 میں 29 نومبر کا دن منانے کا اعلان کیا گیا تو اس وقت مسلمانوں نے اس کو مسترد کیا تھا اور آج بھی پوری مسلم امہ فلسطین کے علاقے میں کسی دوریاستی حل کو قبول نہیں کرتی ہے ۔ انھوں نے کہ قائد اعظم ، علامہ محمد اقبال اور دیگر پاکستانی قائدین کی جانب سے بار بار اس موقف کا اظہار کیا گیا کہ فلسطین فقط فلسطینیوں کا ہے ۔ اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد محروموں کو حق دلوانا تھا، انسانی حقوق کی بحالی تھا تاہم یہ ادارہ مغربی قوتوں کا اعلی کار بن چکا ہے اور اس نے اقوام عالم کو مایوس کیا ہے ۔ اسی ادارے نے 29 نومبر 1947 کو ناجائز ریاست کو جائز ریاست کا اسٹیٹس دیا جو مغربی قوتوں کی ایما پر تھا ۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ حق پر مبنی موقف کو ہمیشہ کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔آج فلسطینی حق پر ہیں اور کامیابی انہی کا مقدر ہوگی ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج حماس اور حزب جہاد اسلامی دہشتگرد قرار دینا ظلم اور ظالم کی حمایت ہے اس کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ آج دنیا میں امن تب ہی ممکن ہے جب مظلوموں کی آواز کو سنا جائے ۔ عالم اسلام کا کوئی باسی ان مسائل پر خاموش نہیں رہے گا ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ مسلمان قیادتوں نے ان مسائل کے حل کے لیے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے، عالم اسلام کو بزدلی اور چھوٹے مفادات کے بجائے عالم اسلام کے حقوق کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔ قراردادیں تو پیش کی جاتی ہیں تاہم ظالم کا ہاتھ روکنا از حد ضروری ہے یہ اقوام عالم کی بالعموم اور مسلمانوں کی بالخصوص ذمہ داری ہے ۔

ملی یکجہتی کونسل پاکستان جو ملک کی دینی جماعتوں کا اتحاد ہے آج اعلان کرتا ہے کہ ہم فلسطینیوں ، حماس ، حزب اللہ کے ساتھ ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اتحاد امت ہی ہمارے مسائل کا حل ہے۔ہمارے دکھ اور خوشیاں مشترکہ ہیں ہمارے مقدسات ایک ہیں عالم اسلام کو ان مشترکات پر جمع ہو نا ہو گا ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہم 29 نومبر کے اس دھوکے کو مسترد کرتے ہیں اور یوم القدس کو ہی یوم فلسطین سمجھتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے دل فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ حکومت پاکستان کو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تحریک کے نائب صدر علامہ عارف واحدی نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں اگر تمام اسلامی ریاستیں سٹینڈ لیں تو اسرائیل اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔اگر ان ممالک سے کمزوری دکھائی گئی تو یہ عالمی سازش ہوگی۔ کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ثاقب اکبر نے کہا کہ ثاقب اکبرحماس، اخوان المسلمین، حزب اللہ جو بھی فلسطین کے لیے قیام کر رہے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری جنرل سید ناصرشیرازی نے کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین پاکستان اور اسلام کا مسئلہ ہے یہاں انسانی حقوق کی پامالی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ قائداعظم کی مسئلہ فلسطین پالیسی میں مصالحت نہیں ہے۔

فلسطین میں حماس اسلامی جہاد اور حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔تحریک جوانان پاکستان کے سربراہ عبد اللہ گل نے مسئلہ فلسطین کی تاریخ پر روشنی ڈالی ، جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین پر مصلحت خطرناک ہے وہ ممالک جنہوں نے اس سلسلے میں ہلکا موقفاختیار کیا آج وہ ابراہیمی دین پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اللہ اس کے نبی ؐ اور دین اسلام کے ماننے والے ہیں ہمیں اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں۔پریس کانفرنس میں فلسطین فاونڈیشن کے علی چوہدری،جے یو پی کے مرکزی راہنما طاہر تنولی ، کونسل کے میڈیا کوارڈینیٹر شاہد شمسی ،کونسل کے رابطہ سیکریٹری سید اسد عباس اور کونسل کے دیگر قائدین نے بھی شرکت کی ۔اس کانفرنس کا اہتمام فلسطین فاونڈیشن نے کیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan