Connect with us

Uncategorized

معاشی ناکہ بندی سے حماس کو بلیک میل کیا جا رہا ہے: طاہرنونو

taher-al-nunu-spokesman-for-the-palestinian-government غزہ میں قائم اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کی حکومت نے کہا ہے کہ بعض بڑی طاقتیں اور خطے کے بعض ممالک غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے ذریعے حماس کوبلیک میل کرنا چاہتے ہیں اور دنیا غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے ذریعے فلسطینی عوام کو جمہوریت پسندی کی سزا دے رہی ہے۔ منگل کے روز غزہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فلسطینی حکومت کے ترجمان طاہر نونو نے کہا کہ اسرائیل نے جمہوری علمبرداروں کے سامنے غزہ پر معاشی ناکہ بندی اس وقت مسلط کی جب غزہ کے شہریوں نے جمہوریت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شفاف الیکشن کے ذریعے حماس کو ووٹ دے کر اپنی نمائندہ جماعت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور دنیا کی بعض طاقتیں غزہ میں انتٓخابات کے من پسند نتائج چاہتے تھے تاہم فلسطینی عوام نے عالمی ،صہیونی بلیک میلنگ کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے حماس کو ووٹ دے کر خالص جمہوریت پسندی کا ثبوت فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے بھی کامیابی کے بعد فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں فلسطینی حکومت بھی عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کی جنگ لڑ رہی ہے۔ مصری وزیرخارجہ احمد ابوالغیط کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے طاہر نونو نے کہا کہ غزہ میں حماس کی حکومت نہایت شفاف طریقے سے وجود میں آئی ہے، اس سلسلے میں ھمارا مصر، عرب ممالک، عالم اسلام اور عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ غزہ میں حماس کی حکومت کو تسلیم کرے، کیونکہ یہ صر ف حماس کا نہیں فلسطینی عوام کا حق ہے۔ واضح رہے کہ احمد ابوالغیط نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حماس مصر سے غزہ میں اپنے اقتدار کو تسلیم کرانا چاہتی ہے جبکہ مصر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ غزہ میں حماس کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا واضح مقصد جمہوریت کی نفی اور اسرائیلی مظالم کی اعلانیہ حمایت ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan