Connect with us

Uncategorized

محمود عباس اسرائیل سے امن کی بھیک مانگنا چھوڑ دیں: بردویل

dr-salah-al-bardawil3 اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے پارلیمانی بلاک اصلاح و تبدیلی کے رکن ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے صدر محمود عباس کی حالیہ تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہے صدر عباس مصر اور حماس کو لڑانا چاہتے ہیں، ان کی تقریر میں مایوسی اور اخلاقی و سیاسی گراوٹ نمایاں طور پر واضح ہو رہی تھی، جمعرات کے روز غزہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محمود عباس فلسطین میں کوئی واضح سیاسی پروگرام پیش کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں، وہ اسرائیل سے امن اورمذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ محمود عباس کے تمام خطاب اور تقاریر اسرائیل سے مذاکرات کے بحالی کے مطالبے اور امن کی بھیک پر مبنی ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ محمود عباس خود کو فلسطینی عوام کا نمائندہ قرار دیتے ہیں تو اسرائیل کے ساتھ نام نہاد امن بات چیت کا سلسلہ ترک کرتے ہوئے امن کی بھیک مانگنا چھوڑ دیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر بردویل کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ طویل عرصے سے جاری ناکام مذاکرات کے بعد اب محمود عباس کی تمام تقاریر اور دعوے جھوٹ اور مزاح کے دیوان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمود عباس امریکا کے سامنے اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے اسرائیل سے جلد از جلد مذاکرات شروع کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور اس سلسلے صہیونی قیادت سے مذاکرات شروع کرنے کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ حماس کے راہنما نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل فلسطین میں مفاہمت کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، دونوں ملکوں کی کوشش ہے کہ حماس اور فتح کے درمیان مفاہمت کے بجائے حماس ایک ایسے فارمولے پر دستخط کریں جس میں حماس کے خلاف کھل کرجنگ کرنا شامل ہو۔ ایک سوال پر بردویل نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ محمود عباس کے اب تک کے مذاکرات میں فلسطینی اتھارٹی کو سوائے پسپائی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوا۔ محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ بے سودمذاکرات میں فلسطین کی 80 فیصد سرزمین سے دستبرداری کی بات کی جاتی رہی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan