Connect with us

Uncategorized

غزہ میں رہائشی فلیٹس کی قلت کے باعث شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا

gaza-demolished-houses فلسطینی وزیر معاشیات ڈاکٹر زیاد ظاظا نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے گذشتہ برس کے شروع میں کیے گئے حملے کے باعث بڑے پیمانے پر مکانات تباہ ہو گئے تھے، جن میں سے بیشتر کی تاحال تعمیر نہیں کی جا سکی، جس کے باعث شہریوں کو رہائشی فلیٹس کے سلسلے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہفتے کے روز غزہ میں عرب خبررساں دارے”صفا” کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2009ء غزہ میں رہائیشی مسائل کے اعتبار سے بد ترین سال رہا، اس دوران بنیادی سامان کی عدم فراہمی اور معاشی ناکہ بندی کے باعث 19 ہزار فلیٹس جن کی تعمیر ناگزیر قرار دی گئی تھی نہیں بنائی جا سکیں۔ ڈاکٹر ظاظا نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے کم از کم 10 ہزار مکانات کی تعمیر کی فوری ضرورت ہے، جبکہ اسکولوں، مساجد اور انفراسٹریکچر کی تعمیرات اس کے علاوہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین بالخصوص غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کی تعمیر نو اور جزوی طور پر متاثر ہونے والی عمارتوں کی مرمت کا کام نہایت سست روی سے ہو رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے باعث بنیادی اور ضروری سامان کی عدم فراہمی ہے۔ ڈاکٹرظاظا نے کہا کہ غزہ میں تباہ ہونے والے مکانات اور دیگر عمارتوں کا ملبہ اٹھانے کا کام بھی ابھی تک جاری ہے، روزنہ تقریبا 700 ٹن ملبہ نکالا جا رہا ہے، تاہم تعمیرات کے معاملات میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے، گذشتہ برس جنگ میں تباہ ہونے والے مکانات کے مکین ابھی تک خیموں میں ہیں اور موسم سرما میں ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan