Connect with us

Uncategorized

غزہ سرحد پر فولادی دیوار تعمیر، پاکستانی علماء کی جانب سے مصر کی مذمت

egyptian-construction-of-a-steel-wall-along-its-borders-with-the-gaza-strip اسلامی دنیا کے اسکالروں کی طرح پاکستان کے نامورعلمائے دین نے مصرکی جانب سے غزہ کی سرحدکے ساتھ کنکریٹ اور لوہے کی دیوارتعمیر کرنے کے اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے فلسطینی بھوک اوراموات کا شکار ہو جائیں گے. پاکستان کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے مصری حکومت کے اقدام پرکڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا اوراسرائیل کے ایک آلہ کار کے طور پر کام کررہا ہے.انہوں نے تمام مسلم اُمہ پرزور دیا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق مجبور اور مقہور فلسطینیوں کی امداد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں. پاکستان کی بڑی مذہبی سیاسی جماعتیں اورممتازعلمائے دین آئندہ دنوں میں مصر کے اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں جبکہ لاہور میں دیوبندی مکتب فکر کے سب سے بڑے دینی مدرسے جامعہ اشرفیہ میں اس سلسلہ میں علماء کا اجلاس منعقد ہوا جس میں قاہرہ حکومت کے فیصلے کو اسلامی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی قراردیتے ہوئے اس پرفوری نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے. واضح رہے کہ مصر دس کلومیٹر طویل دیوار کے ابتدائی مراحل مکمل کرچکا ہے اور وہ رفح سرحد کے ساتھ بنی ہوئی سرنگوں کا راستہ بند کرنے کے لئے پچاس سے ساٹھ فٹ زیر زمین فولادی دیوار بھی بنا رہا ہے.اسرائیل فلسطینیوں پر یہ الزام عاید کرتا چلا آ رہا ہے کہ وہ ان سرنگوں کو روزمرہ استعمال کی اشیاء کے علاوہ اسلحہ کی اسمگلنگ کے لئے بھی استعمال کررہے ہیں.مصر نے جون 2007ء میں غزہ کی پٹی پر حماس کے کنٹرول کے بعد سے رفح بارڈر کراسنگ بند کر رکھی ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ کی تمام بارڈر کراسنگز بند کررکھی ہیں جس کی وجہ سے غزہ کی پٹی کا پورا علاقہ عملاً ایک بڑی جیل میں تبدیل ہو کررہ گیا ہے. پاکستان کےنامور عالم دین اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ قاہرہ کی جانب سے سرحد پر فولادی دیوارکی تعمیر سے اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کا نیا لائسنس مل جائے گا.انہوں نے کہا کہ مصر کے اقدام کے نتیجے میں اسرائیل فلسطینیوں کی سرزمین پر قابض ہونے کے لئے انہیں صفحہ ہستی سے ہی مٹا سکتا ہے. مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ مصرکی سرحدی دیوار اسرائیل اور جرمنی کی دیواروں سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے تو دنیا کا جغرافیہ ہی تبدیل ہوکر رہ جائے گا.انہوں نے مصر کی دیوار کو اسلام کے بھائی چارے اورمظلوموں کی مدد کرنے کے اصول کے بھی منافی قراردیا.ان کا کہنا تھاکہ مصرغزہ کی پٹی کے پندرہ لاکھ مکینوں کو سزا دینے کے لئے اپنی قومی سلامتی سے متعلق بھونڈے دلائل پیش کر رہا ہے جن کی کوئی ٹھوس منطقی یا عقلی بنیاد نہیں ہے. مفتی منیب الرحمان نے، جو بریلوی مکتب فکر کے دینی مدارس کی تنظیم کے سربراہ بھی ہیں، کہا کہ مصر کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے امریکا کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے اور وہ خطے میں واشنگٹن کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے. انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی محاصرے کا شکار فلسطینی کبھی مصر کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ نہیں رہے ہیں اور وہ تو سرنگوں کے ذریعے خوراک، دودھ، ادویہ اوردوسری روزمرہ استعمال کی اشیاء ہی لے جانے کی کوشش کرتے رہے ہیں. جامعہ اشرفیہ کے مہتمم حافظ فضل الرحیم نے مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ”مصر کی جانب سے اسرائیل کی طرز پر فلسطینیوں کے مقاطعے کے لئے سرحدی دیوار کی تعمیر کے اقدام سے پوری مسلم امہ کودکھ اور افسوس ہواہے .ہم پاکستان میں اس خبر کو سن کر شدید صدمے سے دوچار ہوئے ہیں اور ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے حسنی مبارک کی حکومت کی مذمت کی جاسکے. انہوں نے کہا کہ مصر نہ صرف اب مسلمانوں کے مفادات کے منافی اقدامات کررہا ہے بلکہ اس نے مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو بھی پلیٹ میں رکھ کردشمن کے حوالے کردیا تھا اور اس کی بازیابی کے لئے کوئی کوشش کی تھی اور نہ جہاد کا اعلان کیا تھا. نامورعالم دین اور جمعیت اتحاد العلماء کے سربراہ مولانا عبدالمالک نے مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے مصر کے فیصلہ کو اسلام اور انسانیت کے منافی اور اسلام کی جانب سے عطاکردہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا.انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے دشمنانِ اسلام کو مسلمانوں کے قتل عام کی شہہ ملے گی.انہوں نے کہا کہ مصر کے اقدام کی نہ صرف اعلیٰ سطح پر مذمت کی جانی چاہئے بلکہ پوری اُمہ کو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہئے. مولانا عبدالمالک نے قاہرہ کے فیصلے کو پاکستان کی جانب سے اپنی افغان پالیسی میں یوٹرن کے مماثل قراردیا جس کے نتیجے میں امریکی افواج کو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمہ میں مدد ملی تھی. انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویزمشرف نے افغان عوام کے قتل عام میں امریکیوں کی مدد کی تھی،اسی طرح اب حسنی مبارک فلسطینیوں کے قتل عام کے لئے اسرائیل کی مدد کررہے ہیں. مولانا عبدالمالک نے قومی سلامتی کے نام پر تعمیر کی جانے والی سرحدی دیوار کے حق میں مسلمانوں کی قدیم درسگاہ جامعہ الازہر کی جانب سے فتویٰ کی بھی مذمت کی.انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی فتویٰ جس سے قرآن وسنت اور بھائی چارے کے اسلامی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی ہورہی ہو،اس کی مسلم علماء کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ ایسے کسی فتویٰ کے بارے میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ وہ حکومت کے دباٶ پرہی جاری کیا گیا ہےاس لئے اسے درخوراعتناء نہیں سمجھا جانا چاہئے. ممتاز شیعہ عالم دین اور اہل تشیع کی ایک بڑی جماعت کے سربراہ علامہ عبدالجلیل نقوی کا کہنا تھا کہ قاہرہ حکومت کی جانب سے لاکھوں فلسطینی مسلمانوں کے قتلِ عام کے لئے مدد تمام مسلم اُمہ کے لئے باعث شرم ہے.مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصر ہمیشہ امریکا اوراسرائیل کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام میں شراکت دار رہا ہے.انہوں نے مصر کی سرحدی دیوار کو اسلام دشمنی پر مبنی اقدام قرار دیا. علامہ جلیل نقوی نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ الازہر کی شریعت کا کیسے جواز پیش کیا گیا اور اس سے دراصل غزہ کی پٹی کی فلسطینی آبادی کو مٹانے کے لئے اسرائیل کی مدد کی گئی ہے.انہوں نے کہا کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جامعہ الازہر جیسا ادارہ اللہ تعالیٰ کے بجائے قاہرہ حکومت کی غلامی میں کام کر رہا ہے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan