Connect with us

Uncategorized

عرب ممالک مفاہمت کرانا چاہتے ہیں لیکن محمودعباس رکاوٹ ہیں: رشق

ezzet-al-resheq-political-bureau-member-of-hamas-movement اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سیاسی شعبے کے رکن عزت رشق نے کہا ہے کہ کئی عرب ممالک فلسطینی جماعتوں میں موجود اختلافات کوختم کر کے مفاہمت کے عمل کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تاہم متنازعہ صدر محمود عباس اور ان کی ٹیم مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ بدھ کے روز اردنی اخبار”السبیل” کو انٹرویو دیتے ہوئے عزت رشق نے کہا ہے کہ فلسطینی مفاہمت کا عمل حقیقی بحران سے گزر رہا ہے، اس بحران کے خاتمے کے لیے تمام عرب ممالک کو کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے تحفظات دور نہ کر کے مصر نے مفاہمتی مسودے کو مزید پیچیدہ کر دیا،، مصر مفاہمتی مسودے پر بغیر ترمیم کے دستخط کا خواہاں ہے، جس سے مفاہمت کا عمل فلسطینیوں کا نہیں بلکہ ایسے لگ رہا ہے کہ یہ مسئلہ مصر کا ہے۔ مصر فلسطینی جماعتوں کے ساتھ یکساں رویہ اپنائے اور تمام جماعتوں کے ساتھ یکساں فاصلہ رکھے، کسی ایک جماعت کی جانب مصری جھکاؤ مفاہمت کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے سے متعلق سوال پر عزت رشق نے کہا کہ حماس کی جانب سے ثالثی کا کردار ادار کرنے والے جرمنی کو حتمی فہرست فراہم کر دی گئی ہے، تاہم یہ معاملہ اسرائیل کے غیر لچک دار رویے کے باعث تعطل کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے سے متعلق تعطل اس وقت پیدا ہوا جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتین یاھو نے جرمنی کے ثالثی کے لیے تیار کردہ مسودے پر عمل درآمد سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے سے متعلق کوئی جلد بازی نہیں کریں گے بلکہ اس سلسلے میں اپنی فہرست پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا انتظار کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ حماس قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں کسی قسم کی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہو گی بلکہ برابری کی بنیاد پر یہ معاملہ طے کیا جائے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan