Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Uncategorized

صہیونی ویزے پر مسلمانوں کی القدس آمد اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے: عکرمہ صبری

palestine_foundation_pakistan_sheikh-ekrema-sabri-the-head-of-the-higher-islamic-authority-and-aqsa-khatib-preacher

مسجد اقصیٰ کے خطیب اور القدس میں سپریم اسلامک کونسل کے چیئرمین شیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں عرب ممالک کے شہریوں اور دنیا کے دیگر مسلمان ممالک کی شخصیات کی بیت المقدس آمد اسرائیل کے القدس پر قبضے کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے. عالم اسلام اسرائیلی ویزے پر بیت المقدس آنے سے باز رہیں. ان خیالات کا اظہار انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کے اس بیان کے ردعمل میں کیا ہے جس میں محمود عباس نے عالم اسلام پر زور دیا تھا کہ وہ القدس اور فلسطین آمد کا سلسلہ جاری رکھیں. بہ قول صدر عباس کے” بیت المقدس میں اسرائیلی ویزے پر دوسرے ممالک کے شہریوں کی آمد اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہو سکتی” جمعرات کے روز اردنی اخبار “الغد” کو انٹرویو میں شیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کی حمایت اور اس کے شہریوں کی مدد کے لئے مسلمانوں کو اسرائیلی ویزے پر آنے کی کوئی ضرورت نہیں. مسلمان اور عرب ملکوں کے شہری بیت المقدس آنے کے بجائے یہاں صحت تعلیم، آبادکاری اور تعمیر و ترقی کے سلسلے میں سرگرم امدادی اداروں کے ذریعے القدس کے شہریوں کی مدد کی جائے. مسجد اقصیٰ کے خطیب کا کہنا تھا کہ القدس کے شہریوں کےاپنی سرزمین سے صبرو ثبات کے ساتھ جڑے رہنے کے لیے عالم اسلام کی جانب سے مالی امداد کی اشد ضرورت ہے. فلسطینیوں کا بجٹ مضبوط ہو گا تو اس کے ذریعے صہیونی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں. ایک سوال کے جواب میں علامہ صبری نے کہا کہ ” امسال 27 مارچ کو لیبیا کے شہر سرت مین عرب لیگ کے اجلاس میں بیت المقدس کی تعمیر وترقی کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا لیکن ابھی تک وہ امداد القدس کے شہریوں کو فراہم نہیں کی جا سکی. اگر عرب لیگ کے فیصلوں کی اتنی حیثیت سے توسرت میں اس کا اجلاس بلانے کی کیا ضرورت تھی. شیخ عکرمہ صبری نے القدس سے محبت رکھنے اور اس کی زیارت کے خواہش مند افراد سے گذارش کی کہ وہ اسرائیلی ویزوں پر شہر میں آنے کے بجائے صہیونی قبضےسے اس کی آزادی کے لیے کوششیں کریں اور باہرسے القدس کے شہریوں کے فنڈز بھیجیں. شیخ عکرمہ نے عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے القدس کے معاملے پر اختیار کردہ مجرمانہ خاموشی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا. انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی خاموشی سے قابض اسرائیل فائدہ اٹھاتے ہوئےمقدس شہر کے چپے چپے کو یہودیانے میں کوشاں ہے. مسلمان ممالک صرف مذمتی قراردادیں پاس کر کے خاموش ہو جاتے ہیں. انہوں نے استفسار کیا کہ عرب لیگ اور آو آئی سی کی جانب سے بیت المقدس کی آزادی کے لیے کیے گئے اعلانات کا کیا ہوا. کیا مسلمانوں نے بیت المقدس اور قبلہ اول کو یہودیوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا. مسجد اقصیٰ کے خطیب نے القدس اور مقبوضہ فلسطین کے شہریوں کی طرف سے اسرائیل کی تمام تر رکاوٹیں توڑ کر قبلہ اول سے اپنا تعلق قائم رکھنے کی تعریف کی اور تمام فلسطینیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ رمضان المبارک کے دوران اپنے زیادہ سے زیادہ اوقات کو مسجد اقصیٰ میں گزارنے کی کوشش کریں تاکہ قبلہ اول کو صہیونیوں کی جانب سے درپیش خطرات کا ازالہ کیا جا سکے. خیال رہے اس سے قبل قطر کے مفتی اعظم اورعالمی علماء رابطہ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف قرضاوی بھی ایک فتوے میں عربوں اور مسلمانوں کو اسرائیلی ویزے پر بیت المقدس آنے سے منع کر چکے ہیں. انکا بھی استدلال ہے کہ اسرائیلی ویزے پر القدس جانا بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan