Connect with us

Uncategorized

سلوان میں زمین دھنسنے کے مسلسل واقعات پر الاقصیٰ فاونڈیشن کا انتباہ

silwan-cavein الاقصیٰ فاونڈیشن برائے ورثہ و اوقاف نے الاقصیٰ مسجد کے جنوبی علاقے سلوان کے اردگرد تیزی سے دھنستی ہوئی زمین کے واقعات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی زیر زمین کھدائی سے علا قے میں بڑے پیمانے پرنقصان ہو رہا ہے۔ سوموار کے روز ایک اخباری بیان میں الاقصیٰ فا ونڈیشن نے کہا کہ زمین دھنسنے کا یہ عمل نماز فجر کے بعد الاقصیٰ مسجد سے صرف تین سو میٹر کے فاصلے پر شروع ہوا۔ یاد رہے کہ اسرائیل، مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے قدیمی شہر میں زیر زمین سرنگیں تعمیر کر رہا ہے، جس کی وجہ سے قدیمی شہر میں بہت سے مقامات پر کھوکھلی زمین اندر دھنستی جا رہی ہے۔ بیان میں اس بات کو شدت سے محسوس کیا گیا ہے کہ اسرائیل زیر زمین کھدائی کے سلسلے کو مسلسل وسعت دے رہا ہے اور اس طرز عمل سے سلوان اور بیت المقدس کے تحفظ کیلے شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں ۔ الاقصیٰ فاونڈیشن نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اسرائیل اپنی زیر زمیں سرنگوں کے جال کو مذید وسعت دیکر اس کا دائرہ الاقصیٰ مسجد اور اور اسکے مضافات تک بڑھا رہا ہے۔ ایک طرف زیر زمین یہ عمل جاری ہے اور دوسری طرف زمین کے اوپر وہ یہودیت کا پھیلاو اور نئی بستوں کی تعمیر پر اپنی توانائیاں صرف کر رہا ہے۔ داریں اثنا، اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے رہنما فاضل حمدان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شیخ رائد صلاح نے پہلے ہی ان خطرات کی نشاندہی کر دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ بیت المقدس خطرے میں ہے ۔ سکولوں اور گلیوں کے زمین میں دھنسنے کے واقعات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ اسرائیل ان علاقوں میں زیر زمین کھدائی کر رہا ہے۔ اسامہ حمدان کا کہنا ہے کہ اسرائیل دن رات مقدس شہر کی عرب اور اسلامی شناخت مٹانے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ حماس کے رکن پارلیمان نے اپنے بیان میں اس خدشے کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو خطرہ لاحق ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا فلسطینی اور عرب عوام بیت المقدس کو بچانے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan