Connect with us

Uncategorized

اسرائیل فلسطین میں عرب ثقافت پرحملہ آور ہے: صہیونی محقق

books اسرائیل کے ایک ماہرثقافت اور محقق”گیچ عمیت” نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطین میں عرب ثقافت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے اور 1948ء کے مقبوضہ علاقے خاص طور سے یہودیوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ عمیت نے اسرائیل کی ایک یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک مقالہ تحریر کیا ہے جس آئندہ ماہ یونیورسٹی میں پیش کردیا جائے گا۔ اپنے اس مقالے میں انہوںنے لکھا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطین سے عرب ثقافت اور کلچر کو ختم کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں 1948ء کے مقبوضہ علاقے اسرائیل کا خاص مرکز ہیں جہاں سے فلسطینی اور عرب تہذیب و ثقافت کا خاتمہ اس کی اولین ترجیح ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اسرائیل فلسطین میں عرب ثقافت کے خاتمے کے لیے شہریوں کے عرب ممالک سے روابط ختم کیے جارہے ہیں،علاوہ ازیں ثقافت اور کلچر کی وہ تمام علامات، تاریخی مقامات، کتب اور لٹریچر سمیت دیگر چیزیں شامل ہیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں گذشتہ ساٹھ برسوں میں اسرائٓیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس، یافا، حیفا،صفد، طبریا اور فلسطین کے دیگر شہروں سے لاکھوں کی تعداد میں کتب جمع کر کے ان میں سے نصف کو جن کی تعداد 50 ہزار بنتی ہے کو تلف کر دیا جبکہ باقی کتب اور مخطوطوں کو سرکاری کنٹرول کے تحت کام کرنے والے اداروں میں رکھ دیا گیا ہے جن تک عام شہریوں بالخصوص عرب شہریوں کی رسائی ممکن نہیں۔ ادھر عرب نشریاتی ادارے”الجزیرہ” کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 1948ء میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی تسلط کے قیام کے ساتھ ہی فوج اور پولیس نے تمام کتب خانوں پر حملہ کرکے ہزاروں کی تعداد میں کتب کو قبضے میں لے لیا تھا۔ کتب خانوں کے علاوہ فلسطینی شہریوں کے خالی ہونے والے مکانات سے بھی بڑی تعدد میں کتب کو جمع کرکے تلف کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق فلسطین میں عرب ثقافت اور کلچر کے خاتمے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ غیر سرکاری این جی اوز بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے باقاعدہ طور پرایسی مہمات چلائی جاتی ہیں جن سےفلسطین میں عرب کلچر اور ثقافت کے خاتمے کےلیے یہودیوں کو اکسایا جاتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan