Connect with us

Uncategorized

اسرائیل سے راکٹ روکنے کا کوئی معاہدہ نہیں کیا: ابوعبیدہ

al-qassam-brigades8 اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے کہا ہے کہ غزہ کی بارڈر پر موجود سکون اور امن و امان مزاحمت کی پالیسی کا حصہ ہے، اسرائیل کے ساتھ کسی تیسرے ملک کی ثالثی سے جنگ بندی کا کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ پیر کے روزغزہ میں ایک ٹی وی انٹرویو میں القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی گئی ہے تاہم کوئی مستقل معاہدہ نہیں،مجاہدین کی جانب سے اسرائیلی فوج پر راکٹ حملے ایک متعین وقت تک روکے جائیں گے، راکٹ حملوں کے روکنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مجاہدین نے اسرائیل کے ساتھ کوئی معاہدہ کررکھا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ سرحد پرامن و سکون کی فضا برقرار رکھنے پر تمام مزاحمتی تنظیموں کا اتفاق ہے، اسرائیل کی جانب سے جارحیت کی صورت میں مجاہدین خاموش نہیں رہیں گے، بلکہ مل کر بھرپور جوابی کارروائی کریںگے۔ غزہ کے گرد مصر کی جانب سے لگائی جانے والی فولادی باڑ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ابو عبیدہ نے کہا کہ ماضی میں بھی کسی عرب ملک نے غزہ کے شہریوں کو اسلحہ فراہم کرنے میں مدد فراہم نہیں کی بلکہ مجاہدین اپنی مدد آپ کے تحت ہی اسلحہ حاصل اور تیار کرتے رہے ہیں، فولادی دیواروں سے فلسطینی عوام کو حق مزاحمت اور حق آزادی سے روکا نہیں جا سکتا۔ مجاہدین اسلحہ حاصل کرتے رہیں گے اور اس سلسلے میں کسی چیز کو آڑے نہیں آنےدیا جائے گا۔ مجاہدین کے پاس موجود دفاعی صلاحیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ القسام کی حکمت عملی یہ ہے کہ ہم اسرائیل کو”سرپرائز” دینا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں مجاہدین اپنی دفاعی صلاحیت کا پشگی اعلان نہیں کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مجاہدین کے پاس اسلحہ میں دور مار کرنے والے راکٹ بھی موجود ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan