صنعاء (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یمن کی مسلح فوج نے کہا ہے کہ انہوں نے شمالی بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ہیری ٹرومین اور اس کے جنگی جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک “معیاری” فوجی کارروائی کی ہے۔
مسلح افواج نے اتوار کی شام جاری کردہ ایک اخباری بیان میں واضح کیا کہ میزائل فورس، بغیر پائلٹ کےڈرون اور بحری افواج نے مشترکہ آپریشن 18 بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے حملہ کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے یمن کے خلاف گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران 47 سے زائد فضائی حملوں کے ساتھ شروع کی گئی جارحیت کے جواب میں کی گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے “یمن کی مسلح فوج یمن کے خلاف جارحیت کے جواب میں بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں تمام امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرے گی”۔
مسلح افواج نے باور کرایا کہ وہ اسرائیلی دشمن پر بحری ناکہ بندی جاری رکھے گی اور غزہ کی پٹی میں امداد اور بنیادی ضروریات کی فراہمی تک آپریشن کے اعلان کردہ علاقے میں اس کے بحری جہازوں پر پابندی لگائے رکھے گی۔
امریکی افواج نے ہفتے کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر بحیرہ احمر میں جنگی جہازوں سے میزائل داغنے کے موقع پر شدید فضائی حملے کیے تھے۔
گذشتہ روز یمن پر جارحیت کے آغاز سے اب تک دارالحکومت صنعا اور یمن کی متعدد گورنریوں پر امریکی جارحیت کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 101 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ امریکی حملے اس وقت ہوئے جب حوثیوں نے غزہ کی پٹی کی امداد روکنے کے جواب میں خطے کی آبی گزرگاہوں میں اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔