صنعاء (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی افواج نے یمن کے متعدد علاقوں پر اپنی وحشیانہ جارحیت کا ازسر نو آغاز کیا جس کے نتیجے میں زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔
یمنی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ نئے حملوں میں شمالی یمن کے صعدہ گورنری کے الصفرا ضلع میں العصید کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا اور دارالحکومت صنعاء میں کاٹن جننگ پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ بدھ کی شام امریکی طیاروں نے دارالحکومت صنعاء اور صعدہ، البیضا اور الجوف کی گورنریوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔
امریکی حکام نے کہا کہ یمن میں فوجی مہم ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
امریکی حملوں کے جواب میں یمنی مسلح افواج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ہیری ایس ٹرومین کو چوتھی بار میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحیی ساری نے کہاکہ “میزائل فورس نے ایک ہائیپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فلسطین 2’ کے ساتھ مقبوضہ ٰیافا کے علاقے میں بن گوریون ہوائی اڈے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک کوالیٹیٹیو فوجی آپریشن کیا۔
بعد ازاں اسرائیلی ایمبولینس سروسز نے اعلان کیا کہ یمن سے داغے گئے میزائل کی نشاندہی کے بعد سائرن فعال ہوگئے اور پناہ گاہوں کی طرف جاتے ہوئے 13 افراد زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ یروشلم میں سائرن بجنے کے بعد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو کنیسیٹ سے ایک محفوظ علاقے میں منتقل کر دیا گیا تھا، جو کہ 2025 کے بجٹ کے قوانین میں سے ایک پر ووٹنگ کی تیاری کر رہے تھے۔
انصار اللہ کے زیر انتظام یمنی فورسز نے وقتاً فوقتاً اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہیں جن میں سے کچھ میں اس نے تل ابیب کو نشانہ بنایا۔
امریکہ نے گذشتہ ہفتے کے روز یمنی اہداف پر فضائی حملے شروع کیے اور کہا کہ اس آپریشن کا مقصد خطے کی سمندری راستوں میں جہاز رانی کی آزادی کو بحال کرنا ہے۔
صنعا اور یمن کی دیگر گورنریوں میں درجنوں فضائی حملوں اور میزائل حملوں میں 50 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔