غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز ہفتے کے روز جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے اندر قیدیوں کے تبادلے تبادلے کے عمل کے دوران قابض اسرائیل کے چھ قیدیوں کو رہا کردیا ہے۔
القسام بریگیڈز کی جانب سے جنوبی شہر رفح سے دو اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا جس کے بعد وسطی غزہ کے النصیرات کے مقام سے چار صہیونی جنگی قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا۔
القسام بریگیڈ کے مسلح نقاب پوش دسیوں مجاھدین نے غزہ کی پٹی کے جنوب اور مرکز میں النصیرات میں چھ قیدیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کرنے کی کارروائی میں حصہ لیا جب کہ اس موقعے پر عوام شہریوں کا ایک جم غفیر بھی موجود تھا۔
دوسری طرف آج قابض اسرائیلی جیلوں سے 602 فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے، جن میں عمر قید کی سزا پانے والے 50 قیدی، طویل قید کی سزا پانے والے60 قیدی جب کہ سنہ د و ہزار گیارہ میں طے پائے’وفا الاحرار‘ معاہدے کے تحت رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کیے جانے والے 47 قیدیوں کورہا کیا جائے گا۔
ان کے علاوہ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران گرفتار کیے جانے والے 445 فلسطینی قیدی بھی آج رہا ہونےوالوں میں شامل ہیں۔
القسام بریگیڈز کے فوجی ترجمان ابو عبیدہ نے کل شام اعلان کیا کہ وہ آج چھ اسرائیلی قیدیوں الیا کوہن، عومر شیو توف، عومر فنکرٹ، تال چوہام، ایورا مینگیسٹو اور ہشام السید کو رہا کریں گے۔
قیدیوں کی حوالگی کے عمل کے لیے رفح میں نصیرات کے مقام پر ڈلیوری پلیٹ فارم تیار کیا گیا جہاں قیدیوں کو ریڈکراس کے حوالے کیا گیا۔
یہ علاقہ ایک تاریخی فوجی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ 2006 کے آپریشن ڈسپیپٹڈ الیوژن کے نفاذ کے دوران مزاحمت کاروں نے اسی جگہ سے سرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے لیے کارروائی شرو ع جہاں سے صرف تین کلو میٹر دو ر سے اسے گرفتار کرلیا گیا۔