Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

ٹرمپ ہمیں دھمکانے کے بجائے امن کے دشمن نیتن یاھو پر دباؤ ڈالیں:حماس

غزہ   (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)  اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف دیے گئے دھمکی آمیز پیغام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جماعت کے خلاف جاری کردہ دھمکیاں “جنگ بندی معاہدے سے متعلق مسائل کو پیچیدہ بناتی ہیں اور قابض حکومت کو مزید سختی پر مجبور کرتی ہیں”۔

ٹرمپ نے بدھ کی شام ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں حماس کے لیے ” آخری وارننگ” دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس نے زیر حراست تمام اسرائیلی قیدیوں کو فوری طور پر رہا نہ کیا تو غزہ میں حماس کو ختم کردیا جائے گا‘۔

قاسم نے پریس بیانات میں کہا کہ “ایک معاہدہ ہے جس پر دستخط کیے گئے تھے اور واشنگٹن اس میں ثالث تھا، اس میں 3 مراحل میں تمام قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ حماس نے پہلے مرحلے میں جو کچھ کرنا تھا اس پر عمل کیا ہے، جب کہ دوسرے مرحلے سے فرار اختیار کرلیا”۔

قاسم نے زور دے کر کہا کہ اگر ٹرمپ قابض قیدیوں کو رہا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو انہیں قابض اسرائیلی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ “امریکی انتظامیہ کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ جنگ بندی معاہدے میں بیان کیا گیا ہے”۔

حازم قاسم نے خبردار کیا کہ قابض اسرائیل ٹرمپ کے بیانات کا فائدہ اٹھائے گا تاکہ “غزہ کا محاصرہ بڑھایا جائے اور اس کی آبادی کو بھوکا مارنے کی پالیسی کو سخت کیا جائے”۔

گذشتہ اتوار کی صبح غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد اسرائیل نے دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع کرنے سے انکار کردیا تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan