Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

ٹرمپ نسلی تطہیر کا ایجنڈا, غزہ سےجبری انخلا،مغربی کنارے کے اسرائیل سے الحاق کی سازش کررہے ہیں

نیو یارک  (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی کنارے کے علاقے کے قابض اسرائیل کےالحاق کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس نے غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے اور اس کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔جبکہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اس حوالے سے نئے موقف کا اعلان کیا ہے۔

رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کے مغربی کنارے کو ضم کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پرٹرمپ نے کہا کہ ” وہ یہ کام کریں گے”۔

غزہ کے حوالے سے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم غزہ کا انتظام بہت اچھے طریقے سے کریں گے اور ہم اسے نہیں خریدیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “فلسطینی غزہ کے علاوہ کہیں اور محفوظ طریقے سے زندگی گزاریں گے۔میں جانتا ہوں کہ ہم ایک حل تک پہنچنے میں کامیاب ہونے والے ہیں”۔

امریکی صدر نے وضاحت کی کہ انہوں نے “اردن کے بادشاہ کے ساتھ ابھی فوری بات چیت کی ہے اور بعد میں ہم طویل بات چیت کریں گے”۔

انہوں نے کہا کہ مجھے 99 فیصد یقین ہے کہ ہم مصر کے ساتھ بھی معاملات طے کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے اردن کے بادشاہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ مملکت 2000 بیمار فلسطینی بچوں کا علاج کرائے گی۔

فلسطینیوں کو وصول کرنے کے بارے میں کہ عبداللہ دوم نے کہاکہ “ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس کو اس طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے جس سے سب کے مفادات یقینی بنائے جا سکیں”۔

اس سرزمین کے وجود کے بارے میں جس پر فلسطینی رہ سکتے ہیں عبداللہ دوم نے کہا کہ مجھے وہی کرنا ہے جو میرے ملک کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ مصر اس حوالے سے کیا فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔

اسی تناظر میں ٹرمپ نے کہا کہ حماس کو ہفتے تک تمام “یرغمالیوں” کو رہا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ حماس ہفتے کو یرغمالیوں کی رہائی کے لیے آخری تاریخ پر عمل کرے گی۔

اردن کے بادشاہ نے نقل مکانی کے منصوبے کو مسترد کرنے کے موقف کا اعادہ کیا۔

اسی تناظر میں ملاقات کے بعد اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے زور دیا کہ اردن کا مفاد، استحکام اور اردن اور اردنیوں کا تحفظ میرے لیے تمام تر تحفظات ہیں۔

اردنی بادشاہ نے X پلیٹ فارم پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر ٹویٹس کی ایک سیریز میں مزید کہا کہ “میں نے ابھی صدر ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں تعمیری بات چیت کی ہے۔ ہم مہمان نوازی کے مشکور ہیں۔ ہم نے اردن اور امریکہ کے درمیان مضبوط شراکت داری اور استحکام، امن اور مشترکہ سلامتی کے حصول میں اس کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نقل مکانی کے خلاف اردن کے مضبوط مؤقف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ متحدہ عرب موقف ہے اور ہر ایک کی ترجیح غزہ کے لوگوں کو بے گھر کیے بغیر دوبارہ تعمیر کرنا اور پٹی میں مشکل انسانی صورتحال سے نمٹنا ہے۔

اردنی بادشاہ نے زور دیا کہ دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ امن ہی خطے میں استحکام کے حصول کا واحد راستہ ہے اور اس کے لیے امریکہ کے قائدانہ کردار کی ضرورت ہے۔ صدر ٹرمپ امن پسند آدمی ہیں۔انہوں نے غزہ میں جنگ بندی تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا، ہم جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے امریکہ اور تمام فریقین کی جانب سے جاری کوششوں کے منتظر ہیں”۔

انہوں نے مغربی کنارے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ وہاں کے حالات کو خراب ہونے سے روکا جا سکے جس کے پورے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں سب کے لیے منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے شراکت داروں کے ساتھ مؤثر طریقے سے کام جاری رہے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan