سٹاک ہوم (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی پر قبضے اور وہاں سے فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کے منصوبے کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔
سٹاک ہوم کے علاقے اوڈنپلان میں سینکڑوں مظاہرین غزہ کے فلسطینیوں کے خلاف ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کرنے کے لیے جمع ہوئے۔
مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’صیہونی اسرائیلیو فلسطین چھوڑ دو‘‘، ’’مجرم امریکہ، مشرق وسطیٰ چھوڑ دو‘‘ اور ’’نسل کشی بند کرو‘‘۔ کے نعرے درج تھے۔
بینرز پر”صیہونیت کو شکست ہوگی اور مزاحمت جیت جائے گی”۔ “جبری نقل مکانی نہیں اور نسل کشی نا منظور۔سکولوں اور ہسپتالوں پر بمباری ناقابل قبول‘ کے نعرے درج تھے۔
بعد ازاں مظاہرین نے سویڈن کی وزارت خارجہ کے دفتر کی طرف مارچ کیا۔ انہوں نے “فلسطین زندہ باد ، ٹرمپ-نیتن یاہو کے منصوبے نہیں چاہئیں ” کے نعرے لگائے۔
پچیس جنوری سے ٹرمپ فلسطینیوں کو غزہ سے بے گھر کرنے کے منصوبے کو مصر اور اردن جیسے پڑوسی ممالک میں منتقل کرنے کے منصوبے کو فروغ دے رہے ہیں تاہم مصر اور اردن سمیت تمام عرب ممالک اور علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں نے ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔
امریکی حمایت سے سات اکتوبر 2023 ءسے 19 جنوری 2025 کے درمیان اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی، جس میں 160,000 سے زیادہ فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر بچے اور خواتین تھیں۔ ان کےعلاوہ 14,000 سے زیادہ لاپتہ ہیں۔