مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) صہیونی ریاست کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے زیر حراست ہر اسرائیلی قیدی کے بدلے غزہ کی پٹی کا 5 فیصد رقبے پر قبضے کی دھمکی دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی کھل کر حمایت کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ “اسرائیل کو ایسا کرنے کی مکمل حمایت حاصل ہے”۔
مذہبی صیہونیت پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو “ایک واضح ڈیڈ لائن مقرر کرنا ہوگی۔ تمام قیدی (اسرائیلی قیدی) بغیر کسی استثناء کے اگلے ہفتہ دوپہر 12 بجے تک واپس آجائیں، ورنہ جہنم کے دروازے کھل جائیں گے”۔
حریدیم انسٹی ٹیوٹ برائے حکمت عملی اور پالیسی کی 10ویں سالانہ کانفرنس کے دوران تقریر کرتے ہوئے سموٹریچ نے “حقیقت میں جہنم کے دروازے کھولنے” پر زور دیا، اور وضاحت کی کہ یہ “بجلی اور پانی کو منقطع کر کے اور انسانی امداد بند کر کے” کیا جائے گا۔
اس نے مزید کہا کہ اسرائیلی قیدیوں کو بچانے کا طریقہ یہ ہے کہ حماس کو مطلع کیا جائے کہ “اگر کسی مغوی شخص کے ساتھ کچھ برا ہوا تو ہم اسی دن غزہ کی پٹی کے 5 فیصد علاقے پر اسرائیلی خودمختاری کا اعلان کریں گے۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے ہر قیدی کے بدلے غزہ کی پانچ فی صد زمین پر قبضہ کرلیں گے۔
انتہا پسند وزیر نے کہا کہ “زمین سے زیادہ تکلیف دہ کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ (فلسطینی) مسمار شدہ عمارتوں یا مردہ لوگوں کی پرواہ نہیں کرتے – پٹی کے تمام شہریوں کو ایک جگہ جمع کر کے دوسرے مستقبل کی طرف لے جانا چاہیے”۔
سموٹریچ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات “صرف ہوائی باتیں نہیں ہیں۔اسرائیل نے اس کی تجویز پر سنجیدگی سے بات چیت شروع کر دی ہے۔ غزہ میں حماس نہیں رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’کوئی دشمن یا خطرہ نہیں ہوگا۔