صنعاء (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) گذشتہ رات امریکی جنگی طیاروں نے شام کے شہر صعدہ پر کئی نئے فضائی حملے کیےجن میں تعدد یمنی شہری زخمی ہوئے، جن میں سے دو نے شمالی یمن کی صعدہ گورنری میں کینسر کے علاج کے لیے الرسول العزم ہسپتال کو نشانہ بنایا۔
المسیرہ سیٹلائٹ چینل نے رپورٹ کیا کہ امریکی فورسز نے صعدہ شہر، اس کے اطراف اور گورنری کے دیگر علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے 12 فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد یا نوعیت معلوم نہیں ہوسکی۔اس نے صعدہ کے مشرق میں ضلع کتاف میں الصبر کے علاقے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک اور حملے کا بھی اعلان کیا۔
امریکی طیاروں نے صعدہ شہر کے مضافات اور ضلع کتاف کے علاقے الصبر پر حملے کیے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے صعدہ کے مختلف علاقوں میں “انتہائی زو دار” فضائی حملوں کی آوازیں سنی انہوں نے مزید کہا کہ فضائی حملے ابھی بھی جاری ہیں۔
ایک فوجی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ “امریکی سینٹرل کمانڈ فار مڈل ایسٹ (سینٹ کام) ہر دن اور ہر رات حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں پر حملے کر رہا ہے”۔
اتوار کی شام یمنی ذرائع نے صعدہ شہر کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے دو امریکی فضائی حملوں کی اطلاع دی، جن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ یمنی دارالحکومت صنعا پر فضائی حملے کے نتیجے میں چار افراد شہید اور دو زخمی ہوگئے۔
انصار اللہ گروپ کے بیانات کے مطابق پیر کی شام تک یمن پر درجنوں امریکی فضائی حملوں میں 83 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
تقریباً ایک ہفتہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے امریکی فوج کو یمن کے خلاف ایک بڑا حملہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے انصار اللہ گروپ “مکمل طور پر ختم” کرنے کی دھمکی دی تھی۔