مغربی کنارہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین نیشنل انیشیٹو موومنٹ کے سیکرٹری جنرل مصطفیٰ برغوثی نے شمالی مغربی کنارے میں پناہ گزین کیمپوں کے مکینوں کی واپسی روکنے اور کیمپوں اور شہروں میں ٹینک لانے کے قابض اسرائیل کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی خطرناک قرار دیا۔
برغوثی نے دو پریس بیانات میں وضاحت کی کہ “اسرائیلی منصوبے کا مقصد پناہ گزینوں کے کیمپوں میں نسلی تطہیر ، ریلیف ایجنسی کی خدمات کو ختم کرکے اور انہیں وہاں سے نکال باہر کرنا ہے۔ قابض فوج کی اس طرح کی کارروائیوں پرصرف مذمت کافی نہیں ہے۔ اس پر صہیونی ریاست پر عالمی سطح پر پابندیاں عاید کی جائیں اور صہیونی ریاست کا ہر سطح پر بائیکاٹ کیا جائے۔ صہیونی ریاست کے ساتھ نارملائزیشن کے تمام معاہدے منسوخ کیے جائیں‘۔
انہوں نے عرب سربراہ اجلاس سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت، غزہ میں نسلی تطہیر کے منصوبے اور مغربی کنارے میں الحاق کی قانون سازی کے خلاف فیصلہ کن موقف اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ”قومی اتحاد کا حصول اور ایک متحد قیادت کی تشکیل 1948 کے بعد سے اب تک کی سب سے خطرناک سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر ہوچکی ہے‘۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاہو اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد کے تحت کام کر رہا ہے۔ وہ اپنے پرانے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مغربی کنارے کی صورتحال کو مزید خراب کرنا چاہتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کا طولکرم کے کیمپ کا حالیہ دورہ پورے مغربی کنارے پر دوبارہ قبضہ اور اس پر جنگ کی توسیع ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ نیتن یاہو پورے فلسطینی وجود کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور 1948 کے نکبہ کو بڑے پیمانے پر دہرانا چاہتے ہیں اور یہ کہ قابض
دشمن فلسطینیوں کے ساتھ اپنے تنازعے کو نسل پرستی کے مرحلے سے نسلی تطہیر کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔