نابلس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ان کی شہادت کے 40 دن بعد غرب اردن کے شمالی شہر نابلس کے بلاطہ پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھنے والے یوسف ابراہیم عبداللہ اسمر کے اہل خانہ کو جمعرات کی شام ایک فون کال موصول ہوئی جس میں انہیں بتایا گیا کہ وہ شہید نہیں ہوئے بلکہ وہ ابھی تک زندہ ہیں۔
یوسف کے بھائی سامی اسمر نے بتایا کہ ان کے بھائی کی اہلیہ کو ٹوٹی پھوٹی عربی بولنے والے کسی کا فون آیا، جس میں اسے بتایا گیا کہ اس کا شوہر حیفا کے رمبام ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اس سے اپنے شوہر کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کو کہا ہے۔
انیس فروری کو ایک اسرائیلی اسپیشل فورسز نے تین نوجوانوں کو طوباس کے جنوب میں واقع الفارعہ مہاجر کیمپ میں ایک گھر کو اندر گھیر لیا، اور مسلح جھڑپیں شروع ہوئیں۔
اس کے بعد سول افیئر اتھارٹی نے فلسطینی وزارت صحت کو مطلع کیاتھا کہ تینوں نوجوان قابض فوج کی فائرنگ میں شہید کردیا گیا ہےاور ان کی لاشیں اٹھا لی گئی ہیں۔ ان کی شناخت یوسف ابراہیم عبداللہ اسمر (عمر35 سال)، محمد احمد مصطفیٰ خلیل (عمر 19 سال) اور یوسف حسن محمود طیب (عمر36 سال) کے طور پر شناخت کی گئی ہے۔
کل شام 5 جنوری 2025ء کو قابض فوج کی جیلوں میں غزہ سے تعلق رکھنے والے قیدی مصعب ہنیہ کی شہادت کا اعلان کیا گیا،قابض فوج نے اس کا جسد خاکی اس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اہل خانہ انہیں موصول ہونے والی کال سے مطمئن نہیں تھے، بلکہ انہوں نے اپنی طرف سے لوگوں کو ہسپتال پہنچایا، جنہوں نے اس کی وہاں ان کی موجودگی کی تصدیق کی۔