صنعاء ۔ (مرکز اطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن ) یمن کے دارالحکومت صنعا کی جامعہ میں ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور ملازمین نے قابض اسرائیل کی جارحیت اور غزہ کے عوام پر مسلط کردہ درندگی کے خلاف عظیم الشان مظاہرہ کیا۔ شرکاء نے اعلان کیا کہ تمام تر مشکلات اور صہیونی بمباری کے باوجود ان کی حمایت غزہ کے عوام کے ساتھ غیر متزلزل اور دائمی ہے۔
یہ مظاہرہ انصار اللہ کی جانب سے “ہم غزہ کے ساتھ ہیں، چاہے صہیونی جارحیت کچھ بھی کرے” کے نعرے کے تحت منعقد ہوا۔ احتجاجی مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر قابض اسرائیل کی طرف سے ڈھائی ملین فلسطینیوں کو بھوک اور قحط میں دھکیلنے کی پالیسی کی مذمت میں نعرے درج تھے۔
مظاہرے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ غزہ پر ہونے والا صہیونی حملہ محض جنگ نہیں بلکہ کھلی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف ایسا سنگین جرم ہے جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ اپنے فلسطینی بھائیوں کی نصرت کے لیے ہر ممکن صلاحیت، قوت اور وسائل استعمال کرتے رہیں گے کیونکہ یہ نہ صرف اسلامی فریضہ ہے بلکہ ایک انسانی اور اخلاقی ذمے داری بھی ہے۔
بیان میں امریکہ اور دیگر تمام صہیونی حامی طاقتوں کو غزہ کے شہداء کے خون اور محصور عوام کی اذیتوں کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا گیا۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ یمن پر قابض اسرائیل کے حالیہ حملے اور شہری تنصیبات کی تباہی بھی ان کے فلسطینی عوام کی حمایت کے موقف کو کمزور نہیں کرسکتی۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب گذشتہ اتوار کو قابض اسرائیل نے صنعا پر وحشیانہ فضائی حملہ کیا تھا جس میں 10 شہری شہید اور 92 زخمی ہوئے۔ وزارت صحت کے مطابق یہ حملہ یمن کے خلاف قابض اسرائیل کی نئی جارحیت کی کڑی ہے۔
واضح رہے کہ انصار اللہ مسلسل صہیونی ریاست پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کر رہی ہے تاکہ غزہ پر جاری قتل عام کو روکا جا سکے جو گذشتہ 23 ماہ سے جاری ہے۔ دوسری جانب قابض اسرائیل نے مارچ کے آغاز سے غزہ کے تمام بارڈر کراسنگ بند کر رکھے ہیں اور صرف نہایت قلیل امدادی ٹرکوں کو داخل ہونے دیا جاتا ہے جس کے باعث غزہ شدید قحط کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ نے انتباہ کیا ہے کہ یہ مجاعہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
امریکہ کی کھلی پشت پناہی کے ساتھ قابض اسرائیل نے 7 اکتوبر سنہ2023ء سے اب تک غزہ میں اجتماعی نسل کشی کی مہم جاری رکھی ہے جس میں قتل عام، قحط مسلط کرنے، جبری ہجرت اور وحشیانہ تباہی شامل ہے۔ تمام بین الاقوامی اپیلیں اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات بھی اس درندگی کو روک نہ سکے۔
اس وقت تک جاری اسرائیلی نسل کشی میں 62 ہزار 895 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 58 ہزار 927 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ مزید 9 ہزار فلسطینی لاپتا ہیں جبکہ لاکھوں اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔ مجاعہ کی وجہ سے اب تک 313 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 119 معصوم بچے شامل ہیں۔