غزہ ۔ (مرکز اطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن ) قابض اسرائیل کی درندگی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی جب اس کی فوج نے شمالی غزہ کے علاقے السوادنیہ میں امداد کے منتظر بھوکے اور محصور فلسطینی شہریوں کو اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنایا۔ اس مجرمانہ حملے میں بدھ کی شام کم از کم 4 فلسطینی شہید اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔
نامہ نگاروں کے مطابق یہ خونریز کارروائی اس وقت ہوئی جب محصور فلسطینی مرد، عورتیں اور بچے بنیادی انسانی ضرورت کی خاطر امدادی سامان کے انتظار میں جمع تھے، مگر صہیونی دشمن نے انہیں کھانے کے بجائے گولیوں سے نوازا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ قابض اسرائیل نے انسانیت کی تذلیل اور اجتماعی سزا کے طور پر امداد کے مراکز کو نشانہ بنایا ہو۔ گزشتہ کئی ماہ سے ایسے مقامات پر بار بار حملے کیے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات کو ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کو بھوک، قحط اور ذلت کے ذریعے جھکانا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل اور امریکہ کی نگرانی میں امداد کی تقسیم کے مراکز پر حملوں میں شہداء کی تعداد بڑھ کر 2,158 ہو چکی ہے، جب کہ 15,843 سے زائد فلسطینی شدید زخمی ہیں۔ ان سبھی کا تعلق عام شہریوں سے ہے جو صرف روٹی اور پانی کی تلاش میں ان مراکز تک پہنچے تھے۔
یہ المیہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ قابض اسرائیل کا مقصد صرف زمین پر قبضہ نہیں بلکہ فلسطینی عوام کی نسل کشی اور ان کے وجود کو مٹانا ہے۔ تاہم غزہ کے عوام محاصرے، بمباری، بھوک اور اجتماعی سزا کے باوجود آزادی اور اپنی سرزمین پر واپسی کے نصب العین پر ڈٹے ہوئے ہیں۔