رام اللہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے غرب اردن کے شمالی شہر طولکرم کے نور شمس کیمپ کے مکینوں کو بندوق کی نوک پر گھر خالی کرنے کے اسرائیلی فوج کے احکامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔
حماس کے رہنما عبدالرحمٰن شدید نے زور دیا کہ طولکرم کے مشرق میں واقع نور شمس کیمپ کے رہائشیوں کو قابض اسرائیلی فوج کی دھمکیاں “ہماری قوم کی مرضی اور ان کی مزاحمت کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوں گی”۔
انہوں نے کہا کہ “قابض فوج کی جانب سے نور شمس کیمپ کے رہائشیوں کو لاؤڈ اسپیکر اور مسجد کے اسپیکر کے ذریعے بے گھر کرنے کی دھمکیاں نسل کشی اور نقل مکانی کے جرائم کی توسیع ہے۔ دشمن ان جرائم کو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں مسلسل کررہا ہے”۔
خیال رہے کہ کل بدھ کو قابض اسرائیلی فوج نے طولکرم کے مشرق میں نور شمس کیمپ کے رہائشیوں کو ان کے گھروں سے نکل جانے کا حکم دیا۔ قابض فوج نے کیمپ کی مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے اعلانا کیے جو بھی کیمپ میں رہے گا اسے مار دیا جائے گا۔
انہوں نے جنین طولکرم اور مقبوضہ مغربی کنارے کے تمام علاقوں پر جاری جارحیت کو قابض حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسی اور فلسطینیوں کو بے گھر کرنے اور ان کی زمینوں اور مقدس مقامات کو کنٹرول کرنے کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کی کوشش قرار دیا۔
حماس کے رہنما نے طولکرم اور اس کے کیمپ کی مزاحمت اور اس کی مسلسل جھڑپوں، دھماکہ خیز آلات کے دھماکوں اور گھات لگا کر کیے گئے بہادرانہ
حملوں کی تعریف کی۔
عبدالرحمان شدید نے مغربی کنارے کے تمام فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی اور تصادم کا دائرہ وسیع کردیں۔ قابض دشمن کے جرائم کا مقابلہ کریں،ایک ساتھ کھڑے ہو کر جنین اور طولکرم کی حمایت کریں اور اپنی استقامت کو مضبوط کریں۔
کل بدھ کو القسام بریگیڈز نے اعلان کیا کہ اس نے طولکرم میں نور شمس کیمپ کے اندر قابض فوج کی ایک پیادہ فورس پر گھات لگا کر حملہ کیا۔
قابل ذکر ہے کہ طولکرم شہر اور اس کے دو کیمپوں طولکرم اور نور شمس پر قابض فوج کی جارحیت مسلسل 17ویں روز بھی جاری ہے، جس میں نور شمس کیمپ کے تین افراد سمیت 8 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔