غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں جنگ قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجی ماتن اینگریسٹ نے اپنے ایک پیغام میں اسرائیلی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں پر نکل کر قیدیوں کی رہائی کے لیے احتجاج اور حکومت پر دباؤ کا سلسلہ جاری رکھیں۔ قیدی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی واپسی کا واحد راستہ تبادلے کا معاہدہ ہے اور دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنا ہے۔
القسام بریگیڈز کی طرف سے شائع کردہ ایک ویڈیو کلپ میں انگلسٹ نے کہاکہ مجھے 7 اکتوبر کو نہال عوز کے مقام سے پکڑا گیا میں 510 دنوں سے حماس کی قید میں ہوں۔
اس نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے اور قیدیوں کی رہائی کی امید ہے۔ ہمارا احساس یہ ہے کہ فوج، ریاست اور حکومت نے قید کے اس طویل عرصے کے لیے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔
اس نے مزید کہاکہ ہم قیدی امید کھونے لگے ہیں ہمیں اس کہانی کا خاتمہ نظر نہیں آتا۔
انہوں نے قابض فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ ہمیں فوجی طاقت کے ذریعے واپس کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے اور ہماری واپسی کا واحد راستہ تبادلے کے معاہدے اور دوسرے مرحلے میں منتقل ہونا ہے۔
اسرائیلی جنگی قیدی نے کہا کہ ان کے ساتھ فوجیوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے نہ کہ عام شہری قیدیوں جیسا کہ صورتحال مشکل ہے سردی سے ہماری مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
اسرائیلی قیدی نے مزید کہاکہ میں آپ سے التجا کرتا ہوں ٹرمپ آپ واحد شخص ہیں جو نیتن یاہو پر اثر انداز ہونے، تمام قیدیوں کو واپس کرنے اور معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں۔
اس نے “اسرائیل” کی قیادت کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ ہمیں زندہ واپس لاؤ، ہمیں تابوت میں واپس نہ لاؤ۔
اسرائیل نے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد یکطرفہ طور پر غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے سے دستبرداری کا اعلان کیا اور پٹی کی گزرگاہیں بند کر دیں اور امداد کا داخلہ روک دیا۔