رام اللہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوجی عدالتوں نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے نواحی علاقوں سے حراست میں لیے گئے فلسطینی قیدیوں کے خلاف 25 انتظامی حراستی احکامات جاری کیے گئے۔ ان میں سے بعض کی پہلے سے جاری قید کی سزائوں میں تجدید جب کہ بعض کو پہلی بار انتظامی قید کی سزا سنائی گئی۔
خیال رہے کہ انتظامی قید کا ظالمانہ ہتھکنڈہ برطانوی استبداد کے دور سے فلسطینیوں کے خلاف چلا آ رہا ہے۔ قابض صہیونی ریاست نے بھی اس مجرمانہ حربے کو فلسطینیوں کو ظالمانہ سزائیں دینے کے لیے استعمال کرنا جاری رکھا ہے۔ اس حربے کے تحت کسی بھی فلسطینی کو بغیر کسی الزام یا کیس چلائے طویل عرصے تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے اور اسے دی گئی قید کی سزا میں بار بار تجدید کی جا سکتی ہے۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس بیان کی نقل مرکز اطلاعات فلسطین کو موصول ہوئی ہے۔بیان میں کہا کہ انتظامی حراست کے احکامات تین سے چھ ماہ تک کے ہیں۔
قابض حکام نے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے اپنی انتظامی حراست کی پالیسی میں اضافہ کیا ہے، گرفتاریوں کی تعداد 12,100 سے زیادہ ہو چکی ہے، جن میں غزہ کے قیدی شامل نہیں ہے، جہاں ان کی تعداد کا تخمینہ ہزاروں میں ہے۔
فلسطینی کلب برائے اسیران کے مطابق قابض حکام بغیر کسی الزام یا مقدمے کے من مانی انتظامی حراست کے جرم کا استعمال کرتے ہیں۔
اسرائیلی فوجی احکامات کے مطابق انتظامی حراست کے احکامات کی لامحدود مدت کے لیے تجدید کی جا سکتی ہے، زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں، جس کے بعد اس قید میں بار بار تجدید کی جاتی ہے۔