غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا آفس نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے پہلے دن سے ہی اس کی شرائط پر عمل نہیں کیا ہے۔ اس دوران قابض فوج نے 1,300 سے زیادہ خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جن کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور ہو چکے ہیں۔
بدھ کو سرکاری میڈیا آفس کی طرف سے جاری ایک بیان کی نقل مرکزاطلاعات فلسطین کو موصول ہوئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 19 جنوری کی صبح سے جب غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس کے بعد قابض اسرائیلی فوج نے مختلف بہانوں اور جوازوں کے تحت معاہدے کی مختلف اقسام کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
قابض فوج نے معاہدے کی 1,300 خلاف ورزیاں کیں، جن میں 112 فلسطینی شہید کیے گئے جب کہ 490 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ فضائی بمباری، زمین بلڈوز کرنا، گھروں کو مسمار کرنے اور ٹینکوں کی دراندازی شامل ہیں۔
قابض فوج کی جانب سے معاہدے کی سب سے سنگین خلاف ورزی انسانی ہمدردی کے پروٹوکول کی پاسداری میں ناکامی تھی، جو کہ غزہ کی پٹی کی بحالی کو نقصان پہنچانے، تباہ کن حالات کو برقرار رکھنے اور تعمیر نو کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے اسرائیلی ارادے کی عکاسی کرتی ہے۔
معاہدے پر دستخط کے بعد سے اب تک فائرنگ کے 77 واقعات، 45 بار فوجی گاڑیوں کی دراندازی ، 37 شیلنگ اور ٹارگٹ آپریشنز اور 210 فضائی حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔