مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکومت مقبوضہ بیت المقدس کے قصبوں صور باھر اور جبل مکبر میں 1,030 نئے آبادکاری یونٹس کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
عبرانی میڈیا کی طرف سے شائع کردہ ایک منصوبے کے مطابق جبل مکبر کے قریب “نوف صیون” بستی میں ایک سکول، دو عبادت گاہوں اور تجارتی علاقوں کے علاوہ 380 ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کیے جانے کی توقع ہے۔
صور باہر محلے کے قریب رامات راچل کیبوتوز اور ہار ہوما محلے کے درمیان مزید 650 ہاؤسنگ یونٹس، تجارتی علاقے ایک ایلیمنٹری سکول، ایک عبادت گاہ، ایک کمیونٹی سینٹر اور ایک کنڈرگارٹن تعمیر کیا جائے گا۔
یہودی بستیوں نے مقبوضہ بیت المقدس کو گھیر لیا ہے اور اس کے عرب محلوں کا محاصرہ کر کے اسے یہودیانےاور نقل مکانی کے خطرے کے دائرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ “عظیم تر یروشلم” کے قیام کے نام نہاد صہیونی منصوبے کے حصے کے طور پر اس کی فلسطینی سرزمین پر بستیوں کے الحاق کو قانونی حیثیت دے کر فلسطینی سرزمین کی شناخت کو تبدیل کرنا ہے۔
قابض حکومت معالیہ ادومیم، بیتار علیت، گیوات زیف، افرات اور معالیہ میخمش بستیوں اور مقبوضہ القدس کے شمال، مشرق اور جنوب میں واقع بستیوں کو ضم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ بستیاں شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیں۔
بل کے تحت بستیوں کا الحاق مقبوضہ بیت المقدس کو مغربی کنارے سے الگ تھلگ کر دے گا، بیت المقدس اور الخلیل کے علاقوں، رام اللہ اور نابلس کے درمیان ضروری جغرافیائی رابطہ منقطع ہو جائے گا اور یروشلم شہر اور اس کے رہائشیوں کو الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔
قابض اسرائیل کے منصوبے سے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی آبادی کو مزید بے گھر کیے جانےکا خطرہ ہے۔