غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جبری طور پر لاپتا فلسطینیوں کے نگران ادارے کی طرف سے جاری ایک بیان میں قابض اسرائیلی حکام کی طرف سے سینکڑوں فلسطینیوں کی لاشوں کو مسلسل قبضے میں رکھنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق مرکز کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل فوج کے ہاتھوں، اس کی وحشیانہ بمباری کی کارروائیوں میں یا اس کی جیلوں کے اندر مارے گئے بڑی تعداد میں لوگ شہید ہوئے۔ ان شہداء کی لاشیں قابض فوج نے ’نمبروں کے قبرستان‘ اور سرد خانوں میں چھپا رکھی ہیں اور ان کے لواحقین کو لاشیں نہ دے کر انہیں نفسیاتی اذیت سے دوچار کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق مرکز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے معاملے کو دوہرے معیار کے ساتھ پیش نہ کریں جب وہ غزہ میں اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی اورامریکی قیدیوں کی باقیات کی واپسی کی بات کرتے ہیں توانہیں ان ڈیڑھ ہزار فلسطینی شہداء کی لاشوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔
مرکز نے ایک بیان میں کہاکہ اسرائیل تقریباً 1,500 فلسطینیوں کی لاشیں اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے، جن میں 665 لاشوں “گنتی قبرستانوں” اور “قابض فوج کے ریفریجریٹرز” میں رکھا گیا ہے۔
مرکزنے واضح کیا کہ ان لاشوں میں نئے متاثرین کے علاوہ گزشتہ صدی کے ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں شہید ہونے والے بھی شامل ہیں، جن میں تازہ ترین کا تعلق مغربی کنارے کے فارعہ کیمپ سے تھا، جنہیں اسرائیلی فوج نے گذشتہ بدھ کی شام شہید کیا اور اس کی لاش قبضے میں لے لی تھی۔
انسانی حقوق مرکز نے کہا کہ یہ جرم بین الاقوامی دنیا کی لاپرواہی اور امتیازی سلوک کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جب کہ بین الاقوامی برادری دیگر مسائل کو حل کرتے وقت مختلف انداز اپناتی ہے۔
اس حوالے سے مرکز نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ رات کے بیانات کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے غزہ میں نسل کشی کی دھمکی دی تھی اور حماس اور غزہ کے عوام کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا: ’’صرف بیمار اور بگڑے لوگ لاشیں رکھتے ہیں۔‘‘
فلسطینی مرکز نے حیرت کا اظہار کیاکہ اگر لاشوں کو حراست میں لینے کے بارے میں امریکہ کا سرکاری مؤقف یہی ہے تو اسرائیل پر بھی یہی معیار کیوں لاگو نہیں کیا جاتا، جو کئی دہائیوں سے سینکڑوں لاشوں کو حراست میں رکھے ہوئے ہے؟
انہوں نے زور دے کر کہا کہ عہدوں کا یہ صریح تضاد فلسطینی مظلوموں کے حقوق کی قیمت پر قابض اسرائیل کی طرف منظم تعصب کی تصدیق کرتا ہے۔