طولکرم (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نےغرب اردن کے شمالی شہر طولکرم میں قائم نور الشمس پناہ گزین کیمپ پر چڑھائی کرتے ہوئے کیمپ کے مکینوں کو فوری طور پر وہاں سے نکل جانےکا حکم دیا ہے۔
آج بدھ کے روز قابض اسرائیلی فوج نے طولکرم کے مشرق میں نور الشمس کیمپ کے رہائشیوں کو حکم دیا کہ وہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران کیمپ کو فوری طور پر خالی کر دیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض فوج نے کیمپ میں العیدہ محلے کی مسجد پر دھاوا بولا اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے مکینوں کو کیمپ سے فوری طور پر نکل جانے کا کہا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قابض فوج نے کیمپ کے داخلی راستوں اور گلیوں میں اپنی گاڑیاں اور پیدل دستے تعینات کیے جبکہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے گولیوں اور صوتی بموں سے شدید فائرنگ کی۔
کئی دنوں سے نور الشمس کیمپ میں اندھا دھند فائرنگ کے دباؤ میں صہیونی فوج کی جارحیت کا سامنا کررہا ہے۔
بے گھر افراد نے کیمپ کے حالات کو انتہائی مشکل اور مخدوش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں مکانات اور دکانیں مسمار کر دی گئی ہیں، قابض فوجی وحشیانہ انداز میں گھروں پر چھاپے مار رہے ہیں، ان کے اندر سے سامان کی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کر رہے ہیں، جوانوں پر حملے کر رہے ہیں، اور بوڑھوں کو ان کی بنیادی ضروریات بالخصوص کپڑے اور موبائل فون سے محروم کررہے ہیں۔
نور شمس کیمپ سروسز کمیٹی کے میڈیا آفس نے بتایا کہ بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد خواتین، بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کر گئی ہے۔
کل منگل کو اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) نے وضاحت کی کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 40,000 افراد کو بے گھر کردیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ طولکرم شہر اور اس کے دو کیمپوں طولکرم اور نور الشمس پر قابض فوج کی جارحیت مسلسل 17ویں روز بھی جاری ہے، جس میں نور الشمس کیمپ کے تین افراد سمیت 8 فلسطینی شہید ہوئے۔ قابض فوج کی جنگی مشین نے وسیع پیمانے پر انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا ہے۔