غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے قابض اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قیدیوں کی قسمت اسرائیلی حکومت کے رویے سے منسلک ہے۔ منفی رویے کی صورت میں اسرائیلی قیدیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
یہ بات القدس بریگیڈز کی طرف سے نشر کی گئی ایک ویڈیو کلپ میں سامنے آئی ہے، جس میں دو اسرائیلی قیدیوں کو دکھایا گیا ہے جو جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے حصے کے طور پر رہا کیے جانے والوں میں شامل ہیں۔
مناظر میں 5 تھائی باشندوں کے علاوہ اسرائیلی فوجی اربیل یہود اور اس کی ساتھی شہری گاڈی موسے کو دکھایا گیا تھا، لیکن جو چیز حیران کن لگ رہی تھی وہ نیر عوز کی بستی کے قریب اربیل کی ظاہری شکل تھی جسے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں پکڑا گیا تھا۔
القدس بریگیڈ نے دشمن کو پیغام دیا کہ “موسے، اربیل اور ان کی ساتھی صرف تبادلے کے معاہدے کے ذریعے ہی رہا ہوئی ، باقی بھی صرف معاہدے کے ذریعے ہی رہا ہوں گے۔
گذشتہ ماہ کے آخر میں اربیل یہود، موسے اور 5 تھائیوں کو ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے حوالے کرنے کی تقریب جنوبی غزہ کی پٹی کے علاقے خان یونس میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ شہید یحییٰ سنوار کے گھر کے سامنے منعقد ہوئی۔
اربیل یہود اور موسے کو 19 اور 25 جنوری کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد فلسطینی مزاحمتی دھڑوں اور قابض اسرائیل کے درمیان حوالے کیے گئے قیدیوں کی تیسری کھیپ کے حصے کے طور پر رہا کیا گیا۔
فلسطینی مزاحمت کا نیتن یاہو کو اس کے قیدیوں کے انجام کے حوالے سے اہم پیغامیہ ویڈیو القدس بریگیڈز کے ترجمان ابو حمزہ کی ٹویٹس کے بعد جاری کی گئی ہے جس میں انہوں نے قابض حکومت کو جنگ بندی معاہدے کی شرائط سے فرار اختیار کرنے اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا۔