مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف یہودی اسرائیلی آباد کاروں اور فوجیوں کی طرف سے کیے جانے والے جرائم اور حملوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے بدھ کے روز اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ فوجیوں کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن کی فوجی پولیس شاذ و نادر ہی تفتیش کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے دائر کی جانے والی شکایات کو مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انہیں منصفانہ تحقیقات تک رسائی سے روکتی ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ قابض فوج صرف اس وقت کارروائی کرتی ہے جب دستاویزی ثبوت موجود ہوں۔ ان ثبوتوں میں بھی ویڈیوز کو ثبوت مانگے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں نامعلوم فوجی حکام کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے “فلسطینیوں کے خلاف فوجیوں کی طرف سے تشدد اور بدسلوکی کے واقعات میں تشویشناک اضافے” کی تصدیق کی ہے. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان معاملات کو صورتحال کی سنجیدگی کے ساتھ حل نہیں کیا جا رہا ہے، یا کبھی کبھی فوجی یونٹوں یا ملٹری پولیس کی طرف سے بالکل بھی نہیں، یہاں تک کہ ان شاذ و نادر معاملات میں بھی جو ان کی تحقیقات تک پہنچ جاتے ہیں۔
ایک ذریعے نے اخبار کو بتایا کہ کارروائی صرف اس صورت میں کی جاتی ہے جب اس واقعے کی ویڈیو دستاویزات موجود ہوں، کیونکہ اسرائیلی فوج کو بیرون ملک قانونی کارروائی کا خدشہ ہے۔
ذرائع نے اخبار میں مزید کہاکہ “ان معاملات میں بھی طریقہ کار سست ہے اور عام طور پر کئی مہینوں کے بعد بغیر کسی حقیقی جرمانے کے ختم ہو جاتا ہے۔ “اگر شکایت صرف ایک فلسطینی کی طرف سے درج کروائی جاتی ہے تو پولیس کی تفتیش شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے”۔
عبرانی اخبار کے مطابق کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2025ء کے پہلے دو مہینوں میں 2024 کے مقابلے میں مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف آباد کاروں کی طرف سے کیے جانے والے جرائم میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ ماہانہ اوسط تقریباً 30 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ سال کے آغاز سے اب تک 139 حملے ہو چکے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر موجودہ رفتار جاری رہی تو حملوں کی سالانہ شرح 800 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حملوں کی اصل تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔
سال2024ء میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے تقریباً 673 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جس کے نتیجے میں 17 اسرائیلی فوجیوں اور پولیس افسران سمیت 217 افراد زخمی ہوئے۔