مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک اسرائیلی اہلکار نے اعلان کیا کہ اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر جنگ بندی معاہدے کے اندر تبادلہ معاہدے کے دوسرے مرحلے سے متعلق مذاکراتی وفد کی سربراہی کریں گے۔
غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ 32 ویں دن میں داخل ہو رہا ہے، دنیا معاہدے کے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا انتظار کر رہی ہے، خاص طور پر قابض حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے اپنے ارادے کے اعلان کے بعد جنگ بندی مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کی کوشش جاری ہے۔
اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے اطلاع دی ہے کہ ڈرمر موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کی جگہ لیں گے۔
چینل 13 نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور اسرائیلی سکیورٹی سروسز کے سربراہان کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور نئی سطحوں پر پہنچ رہی ہے، جب نیتن یاہو نے اسرائیلی مذاکراتی ٹیم میں تبدیلی کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے موساد اور شین بیت کے سربراہوں کی موجودگی کے بغیر “حساس مسائل” پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک میٹنگ کی، موساد کے سربراہ کو تبادلے کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات کرنے والے اسرائیلی وفد کی قیادت سے برطرف کرنے کے اپنے فیصلے کے بعد یہ تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ڈرمر قابض ریاست اور امریکی انتظامیہ کے درمیان رابطے کے ایک اہم چینل کے طور پر کام کرتا ہے اور اس کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ تباہی کی جنگ کے دوران ڈرمر نے غزہ میں بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا خیال اپنایا اور اس کی آبادی کو بے گھر کرنے پر بھی زور دیا۔
دوسری طرف حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ اگلے ہفتے کو فلسطینی عوام کی کامیابیوں میں سے ایک کا مشاہدہ کیا جائے گا جس میں کئی قیدیوں کو عمر قید اور لمبی سزائیں سنائی گئی ہیں کی رہائی عمل میں لائی جائے گی۔
انھوں نے ایک پریس بیان میں اس بات پر زور دیا کہ حماس سیاسی طور پر اور زمینی طور پر معاہدے کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کی شقوں پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم دوسرے مرحلے کے لیے تیار ہیں جس میں ایک بار قیدیوں کا تبادلہ ہو گا تاکہ ایک ایسے معاہدے تک پہنچ سکے جو مستقل جنگ بندی اور پٹی سے مکمل انخلا کا باعث بنے”۔
منگل کو غزہ میں حماس کے سربراہ اور اس کے مذاکراتی وفد کے سربراہ خلیل الحیہ نے اعلان کیا کہ 4 قابض قیدیوں کی لاشیں جمعرات 20 فروری کو حوالے کی جائیں گی، جن میں “بیباس” خاندان کی لاشیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ باقی لاشیں پہلے مرحلے میں چھ ہفتے میں حوالے کی جائیں گی۔