پیرس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اردنی وزیر خارجہ ایمن صفدی نے کہا ہے کہ عرب حمایت یافتہ مصری منصوبہ غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بے گھر کیے بغیر دوبارہ تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے اور ہم اس کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
جمعہ کو اپنے فرانسیسی ہم منصب جین نول بیروٹ کے ساتھ ملاقات کے دوران الصفدی نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے، پٹی کے تمام حصوں میں مناسب اور فوری انسانی امداد پہنچانے میں تعاون بڑھانے اور مغربی کنارے کے حالات کو خراب ہونے سے روکنے کے لیے عرب کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اردن کا موقف واضح ہے۔ہم فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شاہ عبداللہ دوم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ان پر واضح کیا تھا کہ عمان فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو قبول نہیں کرے گا۔
اردنی اور فرانسیسی وزراء خارجہ نے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرنے پر اتفاق کیا۔ الصفدی نے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرنے کے فرانس کے موقف کو سراہا۔
صفدی کے بیانات غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے کسی بھی منصوبے یا کوششوں کو مسترد کرنے کے اردن کے اصولی موقف کا برملا اظہار ہے۔
منگل کی شام مصر نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک ایسا وژن پیش کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا جو فلسطینیوں کی سرزمین پر ان کے جائز اور قانونی حقوق سے مطابقت رکھتے ہوئے ان کی بقا کو یقینی بنائے۔
منگل کو اردن کے بادشاہ نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات کی۔ انہوں نے ان سے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کردیا۔