غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نےغزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے ضامنوں سے مطالبہ کیا کہ نہتے فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی جرائم اور خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر مداخلت کریں۔ حماس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ محاصرہ ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے اور فلسطینیوں پر مسلط بھوک او ر قحط کی پالیسی بند کرائے۔
فلسطینی انفارمیشن سینٹر کو موصول ہونے والے ایک بیان میں حماس نے زور دیا کہ قابض ریاست کے جاری جرائم کے ساتھ ساتھ کراسنگ کی مسلسل بندش، محاصرہ سخت کرنا اور غزہ کی پٹی میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو بھوک اور پیاس سے مارنا، بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا اصرار ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جان بوجھ کر معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تازہ ترین واقعہ وسطی غزہ کی پٹی میں ڈرونز کے ذریعے کیا گیا فضائی حملہ تھا، جس کے نتیجے میں پانچ فلسطینی شہید ہوئے۔ اب شہداء کے بعد
جنگ بند کے اعلان کے بعد کے عرصے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 160 ہو چکی ہے۔
کل صبح وسطی اور جنوبی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی خلاف ورزیوں اور بمباری کی کارروائیوں میں پانچ شہری شہید اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔اب شہریوں کو لکڑیاں جمع کرنے کے دوران نشانہ بنایا گیا۔