قاہرہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سینئر عہدیداروں نے بتایا کہ جماعت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جمعہ کو غزہ میں ایک نازک جنگ بندی کو مزید جاری رکھنے کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے قاہرہ میں موجود ہے۔
ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایاکہ “یہ وفد ہفتے کے روز مصری حکام سے ملاقات کرے گا تاکہ تازہ ترین پیش رفت پر تبادلۂ خیال، جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد میں پیش رفت کا جائزہ لینا اور معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے متعلق معاملات کو حل کرنا ممکن ہو۔”
انہوں نے کہا ہے کہ مصری ثالثین کے ساتھ مذاکرات کے دوران حماس کا وفد مطالبہ کرے گا کہ اسرائیل “معاہدے پر عمل درآمد، دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات شروع کرے اور غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کو ممکن بنانے کے لیے سرحدی گذرگاہیں کھولے۔”
دوسرے اہلکار نے کہا فلسطینی مزاحمتی تنظیم ایک “مستقل اور مکمل جنگ بندی کو یقینی بنانے والے جامع معاہدے” کی خواہاں ہے۔
انہوں نے کہاکہ دوسرے مرحلے کے لیے حماس کے مطالبات میں غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلاء، ناکہ بندی کا خاتمہ، علاقے کی تعمیرِ نو اور قاہرہ میں رواں ہفتے ہونے والے عرب سربراہی اجلاس کے فیصلوں کی بنیاد پر مالی معاونت شامل ہیں۔
چھے ہفتوں کے نسبتاً پرسکون دورانیے کے بعد جنگ بندی کا پہلا مرحلہ گذشتہ ہفتے کے آخر میں ختم ہو گیا جس میں فلسطینی قیدیوں کے عوض اسرائیلی قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل تھا۔
قابض اسرائیل پہلے مرحلے کو وسط اپریل تک وسعت دینا چاہتا ہے لیکن حماس نے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر اصرار کیا ہے جس سے جنگ کا مستقل خاتمہ ہو۔