قاہرہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مصر کے وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی نے کہا ہے کہ “فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے۔ ہم فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو مسترد کرتے ہیں‘۔
مدبولی نے مزید کہا کہ “ایک ریاست کے طور پر،ہم فلسطینی عوام کے اپنی ریاست کے قیام کے حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں”۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ “مصر اس انتہائی اہم مرحلے پر فلسطینی قوم کوہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں”۔
وزیراعظم مدبولی نے زور دیا کہ “مصر فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے ایک ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا”۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ “غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے اور پٹی کے لوگوں کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے مصر کی بھرپور کوششیں جاری ہیں”۔
غزہ کی پٹی میں جنگ بندی 19 جنوری کو عمل میں آئی تھی اور اس کا پہلا مرحلہ 42 دن تک جاری رہے گا، جس کے دوران مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں دوسرے اور پھر تیسرے مرحلے کے لیے مذاکرات شروع ہوں گے۔
سات اکتوبر 2023 سے 19 جنوری کے درمیان امریکہ، برطانیہ اور متعدد یورپی ممالک کی حمایت سے اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں تقریباً 160,000 فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین تھیں اور 11,000 سے زائد لاپتہ ہوئے ہیں۔