جنین (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مغربی کنارے کے شمال میں واقع جنین کیمپ میں قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک تیرہ سالہ بچی شہید ہوگئی۔
وزارت صحت نے جینن کیمپ میں قابض فوج کی فائرنگ سے 13 سال کی ریماس عمر عموری کی شہادت کی اطلاع دی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج نے الجباریات محلے میں جنین کیمپ کے قرب و جوار میں بچی ریماس عمر عموری پر براہ راست فائرنگ کی جس سے وہ شدید زخمی ہونے کےبعد دم توڑ گئی۔
قابض اسرائیلی فوج نے شہر اور اس کے کیمپ پر 33 دنوں سے جاری وسیع جارحیت کے درمیان جنین کے سرکاری ہسپتال کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے۔ قابض صہیونی ریاست کی طرف سے جاری اس جارحیت کے نتیجے میں متعدد افراد شہید، زخمی ہوئے ہیں اور گھروں اور انفراسٹرکچر کی بڑے پیمانے پر تباہی کی گئی ہے۔
درجنوں فوجی گاڑیاں جنین ہسپتال اور الامل ہسپتال کے اردگرد تعینات ہیں، جو شہریوں کی شناخت کی جانچ کر رہی ہیں اور علاقے میں گھومتے پھرتے ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔
قابض فوج کی طرف سے پانی کی لائنوں کو نشانہ بنانے اور تباہ کرنے کے بعد جنین کے ہسپتال پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں، کیونکہ شہر کے تقریباً 35 فیصد رہائشی پانی کی کمی کا شکار ہیں۔
قابض فوج جارحیت کے پہلے دنوں سے ہی جنین کیمپ کے قریب عمارتوں کو فوجی بیرکوں کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جب کہ وہ جنین شہر کے الباساطین محلے میں فوجی کمک اور بلڈوزر بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
قابض افواج نے ایندھن کے ٹینک، پانی کے ٹینک اور چھوٹے قلعہ بند کمروں کو فوجیوں کے درمیان اندرونی فوجی رابطے کے لیے استعمال کیا۔
قابض فوج نے جنین کیمپ سے تقریباً 3,000 خاندانوں کو زبردستی اپنے گھروں سے بے گھر ہونے پر مجبور کیا، جب کہ سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی وسیع پیمانے پر تباہی کے ساتھ 120 سے زیادہ گھر مکمل طور پر مسمار کردیے۔