برسلز (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نےکہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی طرف سے ڈیڑ سال کے قریب جاری رہنےوالی وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں تقریباً 90 فیصد گھر تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے پاس رہنےکے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میں مزید کہا کہ “غزہ کی پٹی میں اپنے علاقوں میں واپس آنے والے فلسطینیوں کو ملبے کے ڈھیروں کا سامنا ہے۔”
تنظیم نے وضاحت کی اس کے صدر ایمی پوپ اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر مہند ہادی کے غزہ کے دورے کے بعد وہ اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ”غزہ میں فلسطینی انتہائی نامساعد حالات میں رہ رہے ہیں، جہاں بنیادی ضروریات اور خدمات تک رسائی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے”۔
اس نے زور دے کر کہا کہ وہ “ہنگامی پناہ گاہوں کی امداد کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں”۔
تنظیم کے ڈائریکٹر نے کہاکہ “غزہ میں تباہی کا پیمانہ حیران کن ہے۔ جن خاندانوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے وہ بغیر تحفظ، بنیادی ڈھانچے یا خدمات کے شدید سردی میں جی رہے ہیں‘۔
پوپ نے مزید کہا کہ “میں نے اپنے بچوں کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کرنے والے والدین سے بات کی، جو کچھ بھی انہیں مل سکتا ہے اس کو استعمال کرتے ہوئے عارضی پناہ گاہیں بنا رہے ہیں”۔
قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں سات اکتوبر 2023ء سے 19 جنوری 2025ء کے درمیان امریکہ کی حمایت سے 160,000 سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے جن میں سے زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔ ان کے علاوہ ہزاروں لاپتا ہیں۔