غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ہالینڈ کے وزیر خارجہ کیسپر ویلڈکیمپ نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کی بجلی کی بندش “تشویش کا باعث” ہے اور انسانی امداد اور بنیادی خدمات کو روکنا “بین الاقوامی قانون کے منافی ہے”۔
اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں ویلڈ کیمپ نے اسرائیل کی طرف سے غزہ کی بجلی کی بندش کو “تشویشناک‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہاانسانی امداد اور بنیادی خدمات جیسے بجلی کی بندش “بین الاقوامی قانون سے متصادم “ہے
ہالینڈ کے وزیر خارجہ نے تمام قیدیوں کو رہا کرنے، غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال کو بہتر بنانے اور تشدد کو ختم کرنے کے مقصد کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات کو فوری نتیجہ تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس سے قبل پیر کے روز ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے غزہ کی پٹی میں ایک “سنگین انسانی بحران” سے خبردار کیا تھا، کیونکہ اسرائیل نے امداد کا داخلہ معطل کر دیا ہےاور پٹی کے واحد ڈی سیلینیشن پلانٹ کو بجلی کی سپلائی روک دی ہے۔
مارچ کے آغاز میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ جو 42 دن تک جاری رہا، ختم ہو گیا، جب کہ قابض اسرائیل دوسرے مرحلے میں داخل ہونے اور جنگ ختم کرنے سے فرار اختیار کررہا ہے۔